بھارت میں کسان خودکشی کرنے پر مجبور کیوں؟

کسان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا کی بعض ریاستوں میں خراب موسم کی وجہ سے خراب فصلوں اور قرض کے بوجھ کے باعث کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں

بھارت میں نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ملک میں گذشتہ 20 برسوں میں تین لاکھ کسان خودکشی کر چکے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں کسانوں کے خودکشیاں کرنے کی وجہ کیا ہے؟

اس برس فروری کے مہینے ریاست مہاراشٹر میں میں رام راؤ پنچلنور نامی کسان نے زہر کھا کر اپنی جان لینے کی کوشش کی۔

بارشوں کے سبب کپاس کی فصل تباہ ہونے کے بعد رام را‎ؤ نے اپنی زمین سے کمائی کی آس چھوڑ دی۔ یہ تیسری بار تھا جب مسلسل تین برسوں میں ان کی فصل تباہ ہوگئی تھی۔ پہلے برس خشک سالی کے سبب فصل تباہ ہوئی اور اس کے بعد کے دو برسوں میں وقت سے پہلے بارش نے ان کی کھیتوں کو تباہ کر دیا۔

رام را‎‎ؤ نے کھیتوں اور اپنی بیٹی کی شادی کے لیے تقریباً 22 لاکھ کا قرض لیا تھا اور جب مسلسل تیسرے برس فصل تباہ ہوگئی تو انھیں یہ سمجھ نہیں آیا کہ اب وہ کیا کریں۔

اب وہ خراب موسم کی زد میں آئے اپنے کھیت پر جو تھوڑی بہت کپاس بچی اس کو جمع کر رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں حکومت ان جیسے کسانوں کی مدد کے لیے آگے آئے گی۔

’حکومت کو کسانوں کو دیے گئے قرضوں کو معاف کردینا چاہیے اور کسانوں کی دی جانی والی مراعات میں اضافہ کیا جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’تبھی جا کر ہماری کوئی مدد ہوگی۔ حکومت کی جانب سے طے کی گئی کپاس کی قیمت بھی بہت کم ہے۔ مجھے حکومت کی طے شدہ قیمت پر ہی فصل فروخت کرنی ہو گی۔‘

جو بھی ہوا لیکن خوش قسمتی سے رام را‎‎ؤ خودکشی کی کوشش میں ناکام رہے۔ لیکن مہاراشٹر میں خودکشی کی کوشش کرنے والے دیگر کسان اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption حال ہی میں دلی میں عام آدمی پارٹی کی جلسے کے دوران ایک کسان نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی

انڈیا کی کئی ریاستوں میں حالیہ ہفتوں میں وقت سے پہلے بارش اور آندھی سے فصل کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے پہلے سے ہی مشکل میں گھرے کسانوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے اور بہت سے کسانوں کو اپنی زندگیاں ختم کرنا ہی آخری چارہ نظر آتا ہے۔

مہاراشٹر میں حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے ابتدائی چار برسوں میں اب تک 257 کسان اپنی جانیں لے چکے ہیں۔

رام را‎ؤ گے گاؤں سے تھوڑی دور ایک دوسرے گاؤں میں جانا بائی گھودام اس درد کو خوب سمجھتی ہیں۔ ان کے خاوند رمیش گھودام نے دو ماہ قبل خودکشی کر لی تھی۔ ان پر تقریباً تین ہزار ڈالر کا قرض تھا اور فصل تباہ ہونے کے بعد انھیں اپنی جان لینے کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا۔

جانا بائی گھودام کا کہنا ہے کہ اپنے خاوند کی موت کے اب وہ کھیتوں میں مزدوری کر کے گزارا کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے: ’میری زندگی میں اب کچھ نہیں بچا۔ میری فصل تباہ ہوچکی ہے، کھیت بنجر پڑا ہے اور اس موسم میں اپنے کھیت پر بیج نہیں بوسکتی۔ ہمارے گھر میں مشکل ہی سے کچھ کھانے کے لیے ہو گا۔ میرے پاس بیٹی اور بیٹے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔‘

جانا بائی گھودام کے گھر میں اندھیرا ہے۔ بجلی کا بل نہ ادا کر پانے پر ان کے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی ہے اور ان کے پاس اپنی 20 سالہ لڑکی کی شادی کے لیے پیسے نہیں ہیں۔

’ہم اس کی شادی پر کچھ خرچ نہیں کر پائیں گے۔ میرے پاس اس کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔‘

ادھر رام راؤ پنچلنورکے گاؤں میں کسانوں کا ایک گروپ اپنے مستقبل کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ یہاں کپاس کی فصل اچھی ہوتی ہے لیکن عالمی بازار میں کپاس کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور چین سے کپاس زیادہ خریدی جاری ہے، اس لیے انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔

ان کے پاس حکومت اور ملوں کے مالکان کی جانب سے کپاس کی طے کردہ قیمت قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption انڈیا میں دیہی علاقوں میں کھیتی باڑی ہی واحد ذریعہ معاش ہے

بھاسکر دیووالور کا کہنا ہے کہ پورے گاؤں کا انحصار کھیتی پر ہے۔ بیشتر کسان مقامی ساہوکار کے مقروض ہیں جو 25 فی صد کی شرح پر قرض دیتا ہے۔

مسٹر دیوالور کی ساری امیدیں اپنے اس 20 سالہ بیٹے سے وابستہ ہیں جو 20 کلومیٹر کی دوری پر شہر میں سائنس کی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ انھیں امید ہے کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیٹے کو نوکری مل جائے گی اور حالات قدرے بہتر ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’کھیتی میں مستقبل تاریک ہے۔ اس میں سرمایہ بہت لگانا پڑتا ہے اور بدلے میں کچھ بھی نہیں ملتا۔‘

ایک سال قبل ملک کی کمان اپنے ہاتھ میں تھامنے والے وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ برسوں سے کسانوں کی خودکشیاں تشویش کا باعث رہی ہیں۔‘

مہاراشٹر کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ متاثرہ خاندانوں اور کسانوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کے مطابق وہ ان کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی اور قرض پر عائد سود ادا کرے گی۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فیڈناوس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملک کے مختلف حصوں میں پانی کے وسائل تیار کرنے کے لیے اس کا ذخیرہ بنایا جا رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مختلف شعبے جیسے کاشت کاری، جنگلات اور سچائی کے شعبے یہ کام کر رہے ہیں لیکن سب شعبوں میں ہم آہنگی ایک بڑا مسئلہ ہے۔‘

متاثرہ دیہی علاقوں میں کسانوں کی کونسلنگ سے متعلق پروگرام چلانے والے لندن سکول آف ہائجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر وکرم پٹیل کا کہنا ہے کہ کسان افسردگی کا شکار ہوتے کر خودکشی کرتے ہیں اس لیے کسانوں کی خودکشی کے مسئلے کو ایک پبلک ہیلتھ کے مسئلے کی طرح دیکھنا چاہیے۔

ڈاکٹر وکرم پٹیل کی تجویز ایک مثبت قدم کی طرف اشارہ ہے لیکن ان کسانوں کا کیا ہو گا جن کو نہ صرف قدرت کے قہر بلکہ حکومت کی کمزور پالیسیوں کے سبب اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔

ریاستی حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو 15 ہزار ڈالر کی امداد دی جانے کی بھی بات کہی گئی ہے۔