اترپردیش کے بعد اتراکھنڈ میں بھی ’میگی نوڈلز‘ کا تجزیہ

Image caption دو منٹ میں تیار ہونے والے میگی نوڈلز بھارت میں بہت پسند کیے جاتے ہیں

بھارت کی شِمالی ریاست اُتراکھنڈ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ بھی فوری طور پر تیار ہو جانے والی نوڈلز کے برانڈ ’میگی‘ کے نمونوں کا تجزیہ کریں گے۔

حکام کی جانب سے یہ فیصلہ پڑوسی ریاست اُتر پردیش میں ان نوڈلز میں سیسے کی بڑی مقدار پائے جانے کے بعد کیا گیا ہے۔

یوپی کی فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کا کہنا ہے کہ مارچ میں معمول کے تجزیوں کے دوران نوڈلز میں سیسہ پایا گیا ہے۔

میگی نوڈلز تیار کرنے والی کمپنی نیسلے انڈیا نے ٹیسٹ کے نتائج کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خود اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

اِس سلسلے میں نیسلے کے اہلکاروں کو جولائی میں اترپردیش میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا گیا ہے ۔

اترپردیش میں فوڈ انسپکٹرز نے ریاست کی دکانوں سے نوڈلز کی کھیپ واپس منگوانے کا حکم دیا ہے۔

ریاست اتر پردیش کے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن یعنی ایف ڈی اے نے رواں ماہ ہی کہا تھا کہ نوڈلز کے دو درجن پیکٹوں پر کیے گئے ٹیسٹ کے دوران ان میں مونوسوڈیم گلوٹامیٹ کی مقدار بھی حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔

دو منٹ میں تیار ہونے والے یہ نوڈلز بھارت میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

نیسلے انڈیا نے اس بات کو مسترد کیا ہے کہ ان کے نوڈلز صحت کے لیے نقصان دہ اور غیر محفوظ ہیں۔ نیسلے کا کہنا ہے کہ وہ ان نوڈلز کو انتہائی محفوظ اور معیاری طریقے سے بناتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم ان میگی میں مونوسوڈیم اور گلوٹامیٹ نہیں ڈالتے ہیں، اور اگر یہ پائے گئے ہیں تو وہ قدرتی طور پر ان میں شامل ہونگے۔ ہم حیران ہیں کہ نمونوں میں یہ کیسے آ سکتے ہیں کیونکہ ہم سیسے کی متواتر نگرانی کرتے ہیں اور یہ ہماری باقاعدہ ذمہ داریوں میں ہے۔‘

مونوسوڈیم گلوٹامیٹ عام طور پر چینی کھانوں میں ذائقے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے زیادہ استعمال سے سر درد اور سینے میں درد ہو سکتا ہے اور اس کا لمبے عرصے تک استعمال اعصابی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی بارے میں