افغانستان میں سات امدادی کارکن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں نامعلوم حملہ آوروں نے نو افراد کو ہلاک کر دیا ہے جن میں کئی امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے سربراہ عبدالرزاق قادری کے حوالے سے کہا ہے کہ حملہ صوبۂ بلخ کے زاری ضلعے میں ہوا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں سات غیر ملکی امدادی کارکن اور دو محافظ شامل ہیں، تاہم غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام افراد امدادی کارکنان تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

روئٹرز نیوز ایجنسی نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے امدادی کارکنوں کا تعلق ’پیل ان نیڈ‘ نامی تنظم سے ہے جو چیک رپبلک میں قائم ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد امدادی ایجنسیوں کے لیے کام کرنے والے لوگوں پر حملوں میں اضافہ ہو گیا ہے اور افغانستان امدادی کارکنوں کے لیے خطر ناک ترین ملک بن گیا ہے۔

حکومت نے اس حملے کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی ہے۔ یہ حملہ دارالحکومت کابل سے 50 میل جنوب میں پیش آیا۔

افغانستان کی وزارت برائے دیہی ترقی اور بحالی کے وزیر محمد داؤد نعیمی نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے ایک خاتون سمیت نو افراد کو ہلاک کر دیا۔

انھوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں نے دو ڈرائیور، دو محافظ اور پانچ امدادی کارکن شامل ہیں۔

پیپل ان نیڈ نامی تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس علاقے میں2002 سے کام کر رہی ہے اور اب یہ اسی علاقے میں اپنی تمام سرگرمیاں معطل کر رہی ہے۔

طالبان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ ابھی تفصیلات اکٹھی کر رہے ہیں اور واقعے پر فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دے سکتے۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں گذشتہ سال 57 امدادی کارکن ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر افغان باشندے تھے۔

اسی بارے میں