کشمیر میں دھمکیوں کے بعد فون سروس معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ٹیلی مواصلات کے شعبے سے منسلک دو افراد کے قتل کے بعد وادی بھر میں ایک ہفتے سے سراسمیگی کا ماحول ہے۔

شمالی کشمیر کے بارہ مولہ ضلعے میں 24 مئی کو مسلح حملوں میں دو افراد کی ہلاکت اور دیگر تین کے زخمی ہونے کے بعد ٹاور بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا، کیونکہ ’لشکراسلام‘ نامی پراسرار تنظیم نے ایک بیان میں وادی بھر کے ٹیلی کام آپریٹروں اور ٹاور کی زمین لیز پر دینے والوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ یہ سارا نظام معطل کر دیں۔

منگل کی صبح جنوبی کشمیر کے کھریواہ، اونتی پورہ، شوپیان اور پلوامہ کے بعض مقامات سے بھی لوگوں نے موبائل کے سگنل غائب ہونے کی شکایت کی۔

پولیس کے سربراہ کے راجندرا نے پہلے ہی دعویٰ کیا ہے کہ مقامی مسلح تنظیم حزب المجاہدین اس آپریشن کے پیچھے ہے، تاہم حزب المجاہدین کے سربراہ اور کئی مسلح گروپوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے چئیرمین سید صلاح الدین نے ’لشکر اسلام‘ کو بھارتی ایجنسیوں کی اختراع قرار دے کر لوگوں اور علیحدگی پسندوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔

اس سے قبل کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک نے جہاد کونسل سے اپیل کی تھی کہ وہ اس بارے میں تنظیمی سطح پر تفتیش کریں۔ بعد میں سید علی گیلانی نے ہند مخالف سیاسی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مذہبی، تجارتی اور سماجی تنظیموں کا اجلاس اپنے ہی گھر پر منعقد کیا اور اس دوران جہاد کونسل سے اپیل کی گئی کہ وہ لشکرِ اسلام سے متعلق پھیلے تذبذب کو ختم کرے۔

قابل ذکر ہے کہ مئی کے آغاز میں ہی سوپور قصبے میں ٹیلی کام کمپنیوں کے بارے میں پراسرار دھمکیوں کے پوسٹر بھی نظر آنا شروع ہو گئے تھے۔ ان میں تمام ٹیلی کام کمپنیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ قصبے میں اپنی سرگرمیاں فوری طور بند کر دیں ’ورنہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

قتل کی پے در پے وارداتوں اور مسلسل دھمکیوں کے بعد پیر کی دوپہر کو سرینگر کے گنجان آباد حبہ کدل علاقے میں بھی ایک ٹاور کے نزدیک بم دھماکہ ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مواصلاتی نظام متاثر ہوتے ہی وادی کے بیشتر علاقوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، اور ٹیلی کام کمپنیوں کی نمائندہ دکانوں سے اشتہاری تختیاں ہٹالی گئی ہیں، اور موبائل فون سے متعلق ریچارج، سم کارڈوں کی فروخت معطل ہو گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

’لشکر اسلام‘ نے اس پابندی کے جواز میں بتایا ہے کہ ’حکومت ہند نے انہی کمپنیوں کے ذریعے مواصلات کا نیٹ ورک پھیلا رکھا ہے جس سے بڑے کمانڈر اور ساتھی فوجی کارروائیوں کا شکار ہوئے ہیں۔‘

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے ٹاورز پر بعض مواصلاتی آلات نصب کیے تھے، جن پر پولیس کی نظر پڑی تو انھیں ہٹا لیا گیا۔ پولیس ذرائع نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ گذشتہ چند سال سے زیر زمین مسلح افراد موبائل فون کا استعمال نہیں کرتے، کیونکہ موبائل کو ٹریک کرنے کی مدد سے متعدد مسلح افراد کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے حالیہ دنوں میں پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ ایک سال میں مختلف کارروائیوں کے دوران 110 مسلح افراد کو مارا گیا، جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد صرف 66 تھی۔

واضح رہے کشمیر میں سنہ 2003 تک موبائل فون کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔ گذشتہ 12 برسوں میں ایئرٹیل، ایئر سیل، ریلائنس، ووڈا فون اور دیگر کمپنیوں نے سوا لاکھ آبادی والے جموں کشمیر میں ٹاورز کا جال بچھا دیا ہے۔ ایئر ٹیل کے پاس سب سے زیادہ یعنی چھ لاکھ صارف ہیں جبکہ ایئر سیل کو صرف وادیِ کشمیر میں 20 لاکھ لوگ استعمال کرتے ہیں۔

اس دوران سرینگر اور بڈگام میں وہ لوگ بہت خوفزدہ ہیں جنھوں نے ٹاورز کے لیے زمین دی ہے یا وہ کسی نہ کسی حیثیت سے ٹیلی کام کے بزنس کے ساتھ منسلک ہیں۔

بڈگام میں موبائل فون ریچارج کرنے والی ایک چھوٹی دکان کے مالک نے ایئرٹیل، ووڈا فون اور دوسری کمپنیوں کے اشتہاری پوسٹر ہٹا دیے اور ریچارج کرنا بھی بند کر دیا۔ ’حالات بہت خراب ہیں اور حکومت صرف بے بس نظر آ رہی ہے۔ ایسے میں یہ کام کرنا خودکشی ہے۔‘

کشمیر میں پہلے ہی گزشتہ برس کے سیلاب کی وجہ سے سیاحوں کی بہت قلیل تعداد نے امسال بہار کے موسم میں کشمیر کا رخ کیا۔ ہوٹل کی صنعت سے منسلک پیرزادہ فیاض احمد نے بتایا: ’گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال ہمیں 80 فیصد گھاٹے کا سامنا ہے۔‘

ان کا کہنا ہے : ’اب چونکہ حالات بہتر ہونے لگے تھے، تو ٹاور بحران اور اس کی بھارتی ٹیلی ویژن پر تشہیر نے اس سال کے سیاحتی سیزن کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔‘

اسی بارے میں