جموں میں سکھ شہری کی ہلاکت کے بعد کرفیو نافذ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے اور حکام نے کرفیو نافذ کر دیا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جموں شہر میں جمعرات کو پولیس کی فائرنگ سے ایک سکھ شہری کی ہلاکت کے بعد حکام نے کرفیو نافذ کردیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں سکھ مظاہرین نے جب جلوس نکالنے کی کوشش کی تو پولیس نے ان پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک سکھ نوجوان ہلاک ہوگیا۔

پولیس کے مطابق بدھ کو سکھ شہریوں نے جموں کے رانی باغ علاقے میں سنت جرنیل سنگھ بھنڈرا والا کی اشتہاری تصویر لگائی تھی جو کسی فساد کا سبب بن سکتی تھی۔

پولیس نے اس تصویر کو ہٹالیا تو سکھ شہریوں نے احتجاج کیا اور پولیس کے ساتھ تصادم کے دوران مبینہ طور پر ایک نوجوان نے پولیس افسر کے پیٹ میں چھُرا گھونپا۔

سکھ شہریوں نے اس کے خلاف جمعرات کو بھی احتجاج کیا تاہم پولیس نے کارروائی کر کے جلوس کو منتشر کیا اور اس دوران پولیس کی فائرنگ سے ایک سکھ نوجوان کی موت واقع ہوگئی۔

اس ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ ہوگئے اور حکام نے کرفیو نافذ کر دیا۔

واضح رہے بھنڈرا والا سنہ 1980 کی دہائی کے دوران امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں بھارتی فوج کے آپریشن بلیو سٹار کے دوران مارے گئےتھے۔ وہ علیحدگی پسند سکھوں کے رہنما تھے۔

پنچاب میں سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک کو بلیوسٹار ایکشن کے بعد چند سال کے اندر ہی ختم کردیا تھا۔

دوسری جانب کشمیر اور جموں کے سکھ گروپوں نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ اور نوجوان کی ہلاکت پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں