چینی بحری جہاز کے حادثے میں 396 ہلاکتوں کی تصدیق

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس حادثے کو چینی تاریخ کا بدترین حادثہ سمجھا جا رہا ہے

چین کے دریائے یانگ زے میں گذشتہ دنوں ہونے والے بحری جہاز کے حادثے میں اب تک 396 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

ایسٹرن سٹار نامی یہ بحری جہاز پیر کو طوفان کی لپیٹ میں آنے کے بعد الٹ گیا تھا۔

چینی خبررساں ادارے ژن ہوا کے مطابق حکام نے سنیچر کو بتایا کہ جہاز کو سیدھا کیے جانے کے بعد اس میں سے لاشیں نکالنے کا عمل جاری ہے۔

حکام کا کہنا تھا کہ بحری جہاز میں سوار مزید کسی مسافر کے زندہ بچنے کی امیدیں ختم ہوچکی ہیں اور اب تک 396 افراد کی ہلاکت کی سرکاری سطح پر تصدیق کی جا رہی ہے۔

بحری جہاز پر سوار 456 افراد سوار تھے جن میں سے کے عملے کے دو ارکان سمیت صرف 14 لوگوں کو زندہ بچایا جا سکا اور 40 اب بھی لاپتہ ہیں۔

اس حادثے کو چینی تاریخ کا بدترین حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔

ڈوبنے والے جہاز کو سیدھا کرنے کی مہم کا آغاز ہوتے ہی یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جہاز میں سوار کسی مسافر کے اب زندہ بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔

جمعے کو اس جہاز کو سیدھا کرنے کے لیے دو بڑی کرینوں کی مدد لی گئی۔ سیدھا ہونے کے باوجود جہاز کا بیشتر حصہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔

جہاز کو اٹھانے کے لیے اسے دھات کے ہکوں کے ساتھ جوڑاگیا اور ساتھ ہی اس کے ارد گرد ایک جال بچھايا گیا تاکہ لاشوں کو تلاش کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسٹرن سٹار نامی یہ بحری جہاز پیر کو طوفان کی لپیٹ میں آنے کے بعد الٹ گیا تھا

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے ژن ہوا نے جہاز کی ایک تصویر ٹویٹ کی ہے۔ جسے دیکھنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جہاز کی چھت مکمل طور پر ٹوٹ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے ژن ہوا کے مطابق جمعرات کو وزارت مواصلات کے ترجمان نے کہا تھا کہ ’جہاز میں مزید زندہ افراد کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے۔‘

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ژو چینگ یوانگ نے کہا کہ’تحقیقات کے دوران کسی بھی چیز کو پوشیدہ نہیں رکھا جائے گا۔‘

اس حادثے میں لاپتہ افراد کے رشتہ دار بہت مایوسی اور غصہ ہیں کیونکہ انھیں جائے حادثہ کے قریب نہیں جانے دیا جا رہا۔

جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہیں، لیکن اس حادثے میں زندہ بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ جہاز طوفان میں پھنس گیا تھا اور جہاز کچھ ہی منٹوں میں الٹ گیا۔

اسی بارے میں