بھارت نے گرین پیس کے اہلکار کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گرین پیس پچھلے 14 برس سے بھارت میں کام کر رہی ہے

عالمی ماحولیاتی تنظیم گرین پیس نے الزام لگایا ہے کہ آسٹریلیا سے آنے والے اس کے ایک اہلکار کو بھارت نے ملک میں داخل نہیں ہونے دیا اور اسے واپس بھجوا دیا گیا۔

گرین پیس کے مطابق سنیچر کی رات کو بھارت میں داخلے کی اجازت نہ ملنے والے ایرن گرے بلوک نامی اس اہلکار کے پاس ویزے سمیت تمام کاغذات مکمل تھے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس بارے میں امیگریشن حکام کا کوئی سرکاری موقف سامنے نہیں آیا، نہ ہی بھارتی حکومت کی جانب سے گرین پیس کے اس الزام پر اب تک کوئی جواب سامنے آیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت اور گرین پیس کے درمیان طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا ہے ۔ اپریل میں بھارت نے تنظیم پر ٹیکس چوری کرنے اور ملک کے اقتصادی مفادات کے خلاف کام کرنے کا الزام لگا کر اس کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے تھے۔

لیکن اس سلسلے میں گرین پیس کو ایک بڑی کامیابی اس وقت ملی جب پچھلے ماہ دہلی ہائی کورٹ نے حکومت کو تنظیم کے اکاؤنٹ بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

گرین پیس پچھلے 14 برس سے بھارت میں کام کر رہی ہے اور ملک میں 340 افراد اس سے وابستہ ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کو ماحولیاتی آلودگی اور مضرِ صحت زرعی ادویات کے خلاف مہم چلانے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بھارت اس تنظیم پر ملکی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری بڑے منصوبوں کے خلاف احتجاج کر کے ان میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتا ہے۔

گذشتہ برس مئی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے کئی غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہے جس کی وجہ سے ناقدین ان پر غیر جمہوری طرزِ عمل اپنانے کا الزام بھی لگاتے ہیں۔

حال ہی میں بھارت نے بیرونِ ملک سے امداد حاصل کرنے والی تقریباً نو ہزار تنظیموں کی رجسٹریشن یہ کہہ کر منسوخ کر دی تھی کہ وہ ملک کے ٹیکس قوانین کی پاسداری نہیں کر رہیں۔

اسی بارے میں