جعلی ڈگری کیس: دہلی کے وزیر قانون مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption جیتیندر سنگھ تومر پر قانون کی جعلی سند رکھنے کا الزام ہے

جعلی ڈگری کیس میں چار دن کے لیے پولیس کی حراست میں بھیجے جانے والے دہلی کے وزیر قانون جیتیندر سنگھ تومر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کہا ہے کہ ان کا استعفی منظور کر لیا گیا ہے۔

دہلی پولیس نے جیتیندر تومر کو منگل کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں ساکیت عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

کئی گھنٹے کی سماعت کے بعد عدالت نے تومر کو چار دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

پولیس نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ تومر کو بہار کے شہر بھاگلپور لے جائے گی اور تمام دستاویزات کی جانچ کرے گی۔

عام آدمی پارٹی کے ترجمان آشوتوش نے عدالت کے حکم کے بعد کہا کہ ہم عدالت کا احترام کرتے ہیں اور ہمارے پاس اسے چیلنج کرنے کا حق بھی ہے۔

جیتیندر سنگھ تومر اپنی ڈگری کو صحیح بتاتے ہیں اور دہلی حکومت بھی ان کی حمایت کرتی رہی ہے۔

منگل کو ایک پریس کانفرنس میں دہلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے کہا کہ دہلی بار کونسل کی شکایت پر پولیس نے کارروائی کی۔ انھوں نے کہا کہ، ’شکایت پر ہم نے جانچ پڑتال کے لیے دو ٹیمیں بنائی تھی۔ دونوں ہی ٹیموں کو چیکنگ میں فرضی دستاویزات کا پتہ چلا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Delhi Goverment
Image caption جیتیندر سنگھ تومر دہلی کی ریاستی اسمبلی میں وزیر قانون ہیں اور ان پر جعلی سند کا الزام ہے

پولیس کا دعوی ہے کہ تحقیقات کے دوران تومر کی ڈگریاں فرضی پائی گئی ہیں۔ اس معاملے پر دہلی حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان پھر جنگ چھڑ گئی ہے۔

دہلی حکومت کے نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے گرفتاری پر سوال اٹھائے، تو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے واضح کیا کہ ان کی وزارت کا اس گرفتاری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے.

دہلی حکومت نے وزیر قانون کی گرفتاری کو ایمرجنسی جیسی صورتحال قرار دیا ہے۔ نائب وزیر اعلی منیش سیسودیا نے کہا، ’یہ ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے جو ہمیں روکیں گے۔ ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔‘

خیال رہے کہ جیتیندر سنگھ تومر پر قانون کی جعلی سند کا الزام ہے۔

ریاست بہار کے شہر بھاگلپور میں واقع تلكا مانجھی یونیورسٹی نے دہلی ہائی کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ جیتیندر سنگھ تومر نے جو سرٹیفکیٹ پیش کیا ہے ’وہ جعلی ہے اور یونیورسٹی کے ریکارڈ سے مماثلت نہیں رکھتی۔‘

تاہم تومر نے کہا تھا کہ ان کی قانون کی ڈگری 100 فی صد اصلی ہے۔

اسی بارے میں