ممبئی ہائی کورٹ نے وکٹورین بگھیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلاعات کے مطابق بھارت میں تقریباً 700 خاندان اپنی گزر اوقات کے لیے ان وکٹورین بگھیوں پر انحصار کرتے ہیں

بھارت کی ایک عدالت نے ممبئی میں گھوڑوں کی مدد سے چلائی جانے والی مشہورِ زمانہ وکٹورین بگھیوں کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بگھیاں ایک سال کے دوران شہر کی گلیوں سے ہٹا دی جائیں۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ گھوڑوں کی مدد سے چلائی جانے والی یہ بگھیاں صرف انسانوں کی ذاتی خوشی کے لیے ہیں اور ان سے اجتناب برتا جا سکتا ہے۔

عدالت نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کی اس بات سے بھی اتفاق کیا ہے کہ یہ عمل ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق بھارت میں تقریباً 700 خاندان اپنی گزر اوقات کے لیے ان وکٹورین بگھیوں پر انحصار کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ عدالت نے یہ حکم جانوروں کی فلاح سے متعلق تنظیموں کی جانب سے دائر کی گئی پٹیشن پر جاری کیا جس کا موقف ہے کہ گھوڑوں کو اس کام کے دوران کم خوراک اور ناکافی آرام ملتا ہے اور ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی۔

ممبئی ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ شہر میں گھوڑوں کے تمام اصطبل بند کر دیے جائیں۔

عدالت نے حکام کو یہ ہدایت بھی جاری کی ہے اس پیشے سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو دوسرے روزگار فراہم کرنے کے لیے نئی سکیمیں متعارف کروائی جائیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں کھلی بگھیوں کا استعمال ملکہ وکٹوریہ کے دور میں شروع ہوا تھا۔ بھارت میں انگریزوں کے دورِ حکومت میں یہ بگھیاں ممبئی کی گلیوں میں دیکھی جا سکتی تھیں، اور یہ کئی دہائیوں تک ممبئی کے سیاحوں کے لیے کشش کا باعث رہیں۔

ان بگھیوں کو چلانے والے کوچوانوں کا کہنا ہے کہ ’وکٹورین بگھیاں ممبئی کی ثقافتی تہذیب کا عکس ہیں‘ اور چند کا کہنا ہے کہ ’انھیں حکومتی بحالی کے منصوبوں پر شک ہے۔‘

60 سالہ عثمان گذشتہ 12 سالوں سے بگھیاں چلاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’میرے لیے نئی نوکری کو اختیار کرنا مشکل ہے اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے ہاتھ کاٹ دیے گئے ہوں۔‘

اسی بارے میں