’غربت کے سبب ایک دن کا بچہ فروخت‘

تصویر کے کاپی رائٹ Subir Bhaumik
Image caption نوزائیدہ کی ماں سیما تانتی کا کہنا ہے کہ ان کے لیے پانچ لوگوں کی کفالت بہت مشکل تھی

بھارت کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں ایک قبائلی جوڑے کی جانب سے مبینہ طور پر غربت و افلاس کے سبب اپنے نوزائیدہ بچے کو فروخت کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

تریپورہ سے سینیئر صحافی سوبیر بھومک نے خبر دی ہے کہ تریپورہ کے كووائي سب ڈویژن کی منڈا بستی گاؤں کے باسی رنجیت تانتي نے اپنے چوتھے بچے کو اس کی پیدائش کے صرف ایک دن بعد محض 4500 روپے میں فروخت کر دیا۔

رنجیت کہتے ہیں: ’جب میری بیوی تین ماہ کے حمل سے تھی تو ہم نے ڈاکٹر سے اسقاط حمل کے لیے رابطہ کیا۔ لیکن چند گاؤں والوں کو اس کا علم ہو گیا اور انھوں نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا۔‘

رنجیت بتاتے ہیں کہ ’گاؤں والوں نے کہا کہ وہ ایسے آدمی کا پتہ چلائیں گے جو بچے کو گود لے لے گا اور اسے ایک بہتر زندگی دے گا۔‘

اس طرح وہ بچہ لینے میں دلچسپی رکھنے والوں کے رابطے میں آئے اور آخر کار دو جون کو انھوں نے اپنے بچے کو فروخت کر دیا۔

رنجیت نے بی بی سی کو بتایا: ’بدھ کی صبح ہم نے بچہ سونپ دیا۔ جنھوں نے میرا بچہ لیا وہ بہت خوش تھے۔ انھوں نے مجھے 4500 روپے بھی دیے۔

سوبیر بھومک نے بتایا کہ اپنے نوزائیدہ بچے کو فروخت کرنے پر رنجیت کو کوئی دکھ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Subir Bhaumik
Image caption رنجیت کو اپنے بچے کے دوسرے کے گھر میں پلنے پر افسوس نہیں ہے

وہ کہتے ہیں: ’مجھے برا نہیں لگ رہا ہے۔ میں خوش ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ ہم اس کی پرورش نہیں کر پاتے۔ وہ ایک امیر خاندان میں چلا گیا ہے جہاں وہ بہتر زندگی بسر کرے گا۔ ہمیں امید ہے کہ اس کے پاس اپنی گاڑی اور گھر ہو گا۔‘

بچے کی ماں سیما تانتي کہتی ہیں کہ ان کے لیے پانچ لوگوں کا خاندان چلانا ناممکن تھا اس لیے انھوں نے اپنے نوزائیدہ بچہ دے دیا۔

سیما نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمارے پہلے سے ہی تین بچے ہیں، چوتھے کو ہم کسی طرح سنبھال نہیں پاتے۔‘

تریپورہ میں سنہ 1993 سے ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی حکومت ہے اور یہ علاقہ سنہ 1985 سے تریپورہ قبائلی علاقے کے خودمختار ضلعی کونسل کے تحت ہے۔

خیال رہے کہ عام طور پر تشدد سے متاثرہ شمال مشرقی بھارت کی دوسری ریاستوں کے مقابلے میں تریپور کو ترقی کے انڈیکس میں بہتر سمجھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں