چینی طلبہ کے مستقبل کا دارومدار ایک امتحان پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیجنگ میں سکول حکام نے سکولوں طالب علموں پر کمپیوٹرائزڈ گھڑیاں لانے پر بھی پابندی عائد کی

چین میں ہر سال 90 لاکھ سے زائد طالب علم ایک مقابلے کا امتحان دیتے ہیں جسے مقامی زبان میں ’گاؤکاؤ‘ کہا جاتا ہے۔

حالیہ امتحان اتوار اور منگل کو منعقد ہوا۔ طالب علموں کے لیے یونیورسٹی میں داخلے کے لیے یہ واحد راستہ ہے، جس کے لیے طالب علموں پر والدین اور قوم کا دباؤ ہوتا ہے۔

بی بی سی نے ڈرونز سے لے کر’گاؤکاؤ تارکین وطن‘ تک ان امتحانات سے منسلک مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا ہے۔

گاؤکاؤ کو ’کرو یا مرو‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خاص طور پر غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے کیونکہ ملک میں اچھی ملازمت کے حصول کے لیے ڈگری یافتہ ہونا نہایت اہم ہے۔

حکام نے امتحانی مراکز میں کلوزسرکٹ ٹی وی کیمرے نصب کیے ہیں اور سکولوں کے داخلی راستوں میں میٹل ڈیٹیکر کی مدد سے تلاشی کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی طالب علم سمارٹ فون امتحانی مرکز میں نہ لے جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اچھی ملازمت کے حصول لیے ڈگری یافتہ ہونا نہایت اہم ہے اس لیے اس امتحان میں کامیابی حاصل کرنا اہمیت کا حامل ہے

سنا نیوز کے مطابق بیجنگ میں سکول حکام نے سکولوں طالب علموں پر کمپیوٹرائزڈ گھڑیاں لانے پر بھی پابندی عائد کی ہے، اور امتحانی مواد کی ترسیل کی جی پی ایس کی مدد سے نگرانی کی گئی تاکہ امتحانات سے قبل سوالات باہر نہ آ سکیں۔

ہنان صوبے میں حکام کی جانب سے نقل کی نگرانی کرنے کے لیے ریڈیو سکینر پر مشتمل ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا۔

داہے آن لائن کے مطابق لوویانگ شہر میں ریڈیو سگنل کی سکیننگ کے لیے دو امتحانی مراکز میں چھ ڈرونز استعمال کیے گئے۔

حکام کا کہنا تھا کہ ان عمارتوں میں کسی قسم کے سگنل ملنا یہ ظاہر کریں گے کہ امتحانی مراکز میں معلومات بھیجی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانات کے دوران انھوں نے کوئی غیرمعمولی سرگرمی نہیں دیکھی۔

تاہم کچھ لوگوں کو نقل کرتے ہوئے ضرور پکڑا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ rex features
Image caption ہنان صوبے میں حکام کی جانب سے نقل کی نگرانی کرنے کے لیے ریڈیو سکینر پر مشتمل ڈرونز کا بھی استعمال کیا گیا

بیجنگ نیوز ڈیلی کے مطابق اندرون منگولیا کے سکول حکام نے غیرقانونی ’گاؤ کاؤ تارکین وطن‘ ثابت ہونے پر 1465 طالب علموں کو نااہل قرار دے دیا جن میں کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں کے بچے بھی شامل تھے۔

ملک کے شمال میں واقع کم آبادی والے صوبے اکثر ملک بھر کے طالب علموں کی توجہ کا مرکز رہتے ہیں، کیونکہ آبادی کی کمی کے باعث وہاں پاس ہونے کے لیے نسبتاً کم گریڈز درکار ہوتے ہیں۔

ہر صوبہ اپنے گاؤکاؤ سوالات کا خود انتخابات کرتا ہے اور اندرون منگولیا میں ہونے والا امتحان پاس ہونے کا آسان ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔

طالب علم اندرون منگولیا میں گاؤکاؤ میں حصہ لے سکتے ہیں تاہم اس کے لیے انھیں کم از کم کچھ شرائط پوری کرنا ضروری ہیں جیسا کہ کم از کم دو سال تک مقامی سکول میں حاصل کرنا۔

تصویر کے کاپی رائٹ rex features
Image caption لوویانگ شہر میں ریڈیو سگنل کی سکیننگ کے لیے دو امتحانی مراکز میں چھ ڈرونز استعمال کیے گئے

پولیس نے ہوبی اور جیانگ ژی صوبوں میں بھی کچھ ایسے لوگوں کو پکڑا ہے جو پیسے لے کر طالب علموں کے طور پر امتحانات دے رہے تھے۔

سدرن میٹروپولس ڈیلی کے مطابق تفتیش کے بعد ایسی سرگرمیوں میں ملوث نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

نانجنگ میں امتحان دیتے ہوئے نوجوانوں کے سمندر میں 86 سالہ وانگ ژیا بھی شامل ہیں۔ شاید وہ امتحان دینے والے سب سے معمر شخص ہیں۔

ہر بار امتحان میں ناکامی کے بعد اس بار وہ یہ امتحان 15 ویں مرتبہ دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کچھ سکولوں نے امتحانی مراکز کے باہر والدین کے لیے مخصوص جگہیں مہیا کیں، جہاں انھیں بیٹھے کے انتظام کے علاوہ چھتریاں اور پانی بھی فراہم کیا گیا

وانگ ژیا کے پاس میڈیکل کام کی صرف ووکیشنل تربیت ہے۔ اپنے گذشتہ انٹرویوز میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ ڈاکٹر بن سکیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میرا کوئی خاص مشغلہ نہیں ہے، لیکن میں پڑھنے اور سیکھنے کا شوقین ہوں۔ دیگر افراد شاید میری مدد نہ کریں، لیکن میں پھر بھی امتحان دینا چاہوں گا، یہ میرا روحانی ستون ہے۔‘

مقامی ذرائع ابلاغ میں واضح طور پر معذور طالب علموں کو بھی جگہ دی گئی ہے، اور انھیں جرات کی مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔

ان میں پٹھوں کی بیماری سے معذوری کا شکار ایک شخص اور بازؤں سے محروم سے بچہ بھی شامل ہے جو اپنے پیروں کی مدد سے لکھتا ہے۔ ان دونوں کو ٹیسٹ مکمل کرنے کے لیے اضافی وقت بھی دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امتحانی مراکز کے باہر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

حکام پر نہ صرف طالب علم بلکہ متجسس والدین کی ذمہ داری بھی تھی۔

کچھ سکولوں نے امتحانی مراکز کے باہر والدین کے لیے مخصوص جگہیں مہیا کیں، جہاں انھیں بیٹھے کے انتظام کے علاوہ چھتریاں اور پانی بھی فراہم کیا گیا۔

کیان لونگ نیوز کے مطابق بیجنگ میں والدین کے مخصوص ایسی جگہوں پر ہنگامی طبی امداد کی سہولیت بھی فراہم کی گئی تاکہ اگر کسی کو دھوپ کی تپش کے باعث کوئی مسئلہ ہو تو طبی امداد فراہم کی جا سکے۔

سی این آر نیوز کے مطابق صوبہ انہوئی میں والدین کے جانب سے وزارت تعلیم میں شکایات کا انبار لگا دیا گیا کیونکہ انگریزی سننے کے ٹیسٹ کے دوران امتحانی مراکز میں سپیکر ٹھیک کام نہیں کر رہے تھے۔

تاہم تقریباً 12 سو طالب علموں کو دوبارہ ٹیسٹ دینے کی اجازت دے دی گئی۔

اسی بارے میں