افغان حکومت اور طالبان کا وفد اوسلو کانفرنس میں

محمد محقق تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption محمد محقق افغان وفد کے سربراہ ہیں

فغانستان کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ حکومت کا ایک وفد ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے۔

اس وفد کے سربراہ افغانستان کے چیف ایگزیکیوٹیو کے نائب محمد محقق ہیں۔

افغان وزارتِ خارجہ کے ترجمان احمد شکیب مستغنی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دورہ ناروے حکومت کی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔ ناروے میں ہونے والے اوسلو فورم میں ایک موضوع افغانستان میں امن بھی ہے۔ یہ کانفرنس منگل کو شروع ہو رہی ہے۔

بی بی سی پشتو سروس سے بات کرتے ہوئے افغان وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے طالبان کے نمائندوں کی اوسلو میں موجودگی کی تصدیق کی۔ اس اہلکار نے طالبان وفد میں شامل ارکان کے نام اور ان کی تعداد کے بارے میں کچھ بتانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسے باوجوہ صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے۔

ترجمان نے طالبان اور حکومتی وفد کے درمیان ملاقات کو بھی بعید از قیاس قرار نہیں دیا۔

ابھی تک طالبان نے اس خبر پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

تاہم ناروے کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ شرکاء کے نام اور اجلاس کے موضوعات کو پوشیدہ رکھا جائے گا۔

اوسلو فورم ہر سال منعقد ہوتا ہے اور اس میں دنیا بھر میں لڑائیوں پر بحث کی جاتی ہے اور تجاویز دی جاتی ہیں۔

اس سے قبل بھی دو موقعوں پر افغانستان کے شہری حقوق کے کچھ سرگرم کارکن، خواتین کے گروہ اور اراکینِ پارلیمان دبئی اور اوسلو میں طالبان کے نمائندوں سے مل چکے ہیں۔

تاہم افغانستان کی حکومت نے کہا تھا کہ یہ ملاقاتیں غیر سرکاری تھیں اور افغانستان سے شمولیت کرنے والے حکومت کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے۔

اسی بارے میں