’شراب کے لیے بیوی کی ساڑھی تک بیچ دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Seetu Tiwari
Image caption غیر سرکانی تنظیم '’ترقی پسند خواتین فورم‘ کے فروری 2015 کے ایک جائزے کے مطابق 500 خواتین ووٹروں والے اس گاؤں میں100 سے زیادہ خواتین بیوہ ہیں

بھارتی ریاست بہار کے ضلع ساسارام کے كرونديا گاؤں میں داخل ہوتے ہی موت کا ماتم گھر گھر نظر آتا ہے۔

یہاں ہر پانچ میں سے ایک عورت بیوہ ہے اور اس کی وجہ ہے شراب کی لت۔

شراب کے خلاف گاؤں کی خواتین نے جدوجہد بھی شروع کی ہے لیکن اس سے نجات کا راستہ اتنا آسان نہیں ہے۔

50 برس کی كلپاتی کنور کی شادی 40 سال پہلے ہوئی تھی اور اس وقت ان کی عمر صرف 10 برس تھی۔

ان کے اہل خانہ نے سوچا تھا کہ بیٹی کو کھانے پینے کی مشکل کبھی نہیں ہوگی۔ لیکن شراب نے سب کچھ برباد کر دیا۔ شوہر کو شراب نے برباد کر دیا اور ان کے بیٹے بھی دن بھر نشے میں ڈوبے رہتے ہیں۔ خاندان کو یوں ختم ہوتے دیکھتی بے چین كلپاتی کہتی ہیں:’ پیٹ میں اناج جاتا نہیں، شراب ہی جاتی رہی تو کیا ہوگا۔ ایک دن سارے مرد ختم ہو جائیں گے۔ آج ہم موسمات (بیوہ) ہیں اور کل کوئی اور ہوگا۔‘

غیر سرکانی تنظیم '’ترقی پسند خواتین فورم‘ کے فروری 2015 کے ایک جائزے کے مطابق 500 خواتین ووٹروں والے اس گاؤں میں100 سے زیادہ خواتین بیوہ ہیں۔

اس فورم کی صدر سنیتا بتاتی ہیں:’نومبر 2013 سے جب ہم نےاس علاقے میں کام کرنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں صرف شراب، پتھر ٹوٹنے سے پیدا ہونے والی دھول اور فاقہ کشی ہے اور یہ لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ بیوہ عورتوں کی تعداد کو دیکھ کر ہم حیرت میں پڑ گئے۔‘

عالم یہ ہے کہ یہاں اب لوگ اپنی بیٹیوں کا رشتہ کرنے سے کترانے لگے ہیں۔

گاؤں کی راجدھانی دیوی کہتی ہیں کہ’اب رشتے والے نہیں آتے، کہتے ہیں بیٹی یہاں بیاہی گئی تو بیوہ ہو جائے گی اور جو خواتین امید سے ہیں وہ بھی بیٹا نہیں مانگتی ہیں۔ بیٹی ہی ہو تو ٹھیک۔ کم سے کم شراب کے نشے سے تو دور رہے گی۔‘

اس علاقے میں جہاں ایک طرف شراب سے اموات کا سلسلہ جاری ہے وہیں شراب کے خلاف جدوجہد بھی تیز ہوگئی ہے۔

مارچ میں ان خواتین نے ’ترقی پسند خواتین فورم‘ کے بینر تلےشراب فروخت کرنے کے خلاف ساسارام میں احتجاجی جلوس نکلا تھا لیکن شراب کی مخالفت صرف عوامی جلسوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا اثر گاؤں میں بھی نظر آنے لگا ہے۔

30 سالہ نبھا کے شوہر کی موت دو ماہ پہلے ہی ہوئی ہے۔ چار بچوں اور اپنا پیٹ پالنے کے لیے دیگر خواتین کی طرح وہ ایک بڑا پھتر توڑتي ہیں تو انھیں 10 روپے ملتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں:’ ایک بار موٹر والے دو لوگ بوریوں میں شراب بھر کر لائے تو ہم نے انھیں پیٹا۔ اس کے بعد موٹر والے نہیں آئے۔‘

خواتین کی مخالفت سے اتنا ضرور ہوا کہ باہر سے جو شراب آتی تھی وہ بند ہو گئی لیکن گاؤں میں لگی بھٹی پر اب بھی شراب بنتی ہے۔

وجہ یہ کہ گاؤں میں روزگار کے جو بھی ذرائع ہیں وہ شراب فروخت کرنے والی دکانوں کے مالکان کے قبضے میں ہیں۔ ایسے میں ان کی مخالفت پیٹ پر لات مارنے کے مترادف ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Seetu Tiwari
Image caption ’بیوہ عورتوں کی تعداد کو دیکھ کر ہم حیرت میں پڑ گئے‘

سماجی کارکن روی شنکر بتاتے ہیں:’ آر ٹی آئی کے تحت حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سنہ 2013 اور 2014 کے دوران ساسارام میں حکومت نے شراب سے 117 کروڑ بطور ٹیکس آمدن حاصل کی تھی۔ یہ اعداد و شمار قانونی طور پر فروخت ہونے والی شراب کے ہیں ہے جبکہ غیر قانونی شراب کا آپ اندازہ لگا لیجیے۔‘

كرونديا میں اگر حالات یہ ہیں تو آس پاس کے گاؤں کے حالات بھی اچھے نہیں ہے۔ پاس کے ہی ایک بیلواں گاؤں میں بھی کئی گھروں میں تالا لگ گیا ہے۔ شراب نے کئی گھر اجاڑ دیے ہیں۔

25 برس کی روبی دیوی کا بھی گھر اجڑ گیا لیکن سکون کی بات یہ ہے کہ ان کے جدوجہد میں ساس نے ساتھ دیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ’شوہر رماكانت شراب پی کر آتا تھا تو پورے جسم پر سوئی چبھوتا تھا۔ بہت دن تک برداشت کیا لیکن جب اس نے شراب کے لیے جا کر میری ساڑھی بیچ دی تو بے چینی شروع ہوئی، تو میں نے پولیس سے شکایت کی اور اب وہ جیل میں ہے۔‘

ضلع کے میجسٹریٹ سندیپ کمار آر بھی كرونديا کے حالات سے واقف ہیں۔

ان کے مطابق’ كرونديا کے حالات اچھے نہیں ہیں، وہاں غیر قانونی شراب کی فروخت ہو رہی ہے، اگرچہ انتظامیہ مسلسل اسے روکنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔‘

اسی بارے میں