’للت مودی کی مدد وزیراعظم کی رضا مندی سے کی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption ھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج پر الزامات لگائے گئے ہیں کہ انھوں نے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کو سفری دستاویزات دلانے میں مدد کی تھی

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے کانگرس نے اب وزیر اعظم نریندر مودی پر بھی حملہ کر دیا ہے۔

کانگرس کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ للت مودی کی مدد وزیراعظم نریندر مودی کی رضامندی سے کی گئی ہے۔

کانگرس کے ترجمان رندیپ سورخشاوالا نے دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’للت مودی کا سشما سوراج سے تعلق، خاندانی تعلقات ،کلائنٹ کونسل، ای میلز کے تبادلے، داخلے اور دوسری چیزوں میں مدد دلانے میں شراکت کے علاوہ ایسا بھی لگتا ہے کہ للت مودی کے نریندر مودی اور امت شاہ سے بھی تعلق تعلقات ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’وزیر اعظم وزارت خارجہ کو چلانے کے لئے مشہور ہیں، کیا ایسے میں کوئی سمجھدار آدمی یہ مان سکتا ہے کہ قانون کے ایسے بھگوڑے کی مدد میں وزیر اعظم کی رضامندی نہیں تھی۔‘

سورخشاوالانے یہ بھی سوال کیا ہے کہ ’وزیر اعظم نریندر مودی، بی جے پی کے صدر امت شاہ اور قانون کے بھگوڑے للت مودی کا کیا رشتہ ہے؟‘

دوسری جانب این ڈی اے کی اتحادی جماعت شیوسینا نے سشما سوراج کا دفاع کیا ہے۔

Image caption واضح رہے کہ للت مودی کو بھارت میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا ہے جنھیں وہ مسترد کر چکے ہیں

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق شیوسینا کے رہنما سنجے رات نے کہا کہ ’مودی حکومت کو کمزور کرنے کے لیے سشما سوراج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، شیوسینا کو ان پورا بھروسہ ہے۔‘

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج پر الزامات لگائے گئے ہیں کہ انھوں نے آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی کو سفری دستاویزات دلانے میں مدد کی تھی۔

واضح رہے کہ للت مودی کو بھارت میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا ہے جنھیں وہ مسترد کر چکے ہیں۔

تاہم جب سے ان پر یہ الزامات لگائےگئے ہیں تب سے وہ برطانیہ سے بھارت واپس نہیں آئے ہیں۔

سشما سوراج اور ان کی پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے اپنی صفائی میں کہا ہے کہ انسانی بنیاد پر للت مودی کی مدد کی گئی لیکن اپوزیشن پارٹی سشما سوراج سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

اسی بارے میں