افسوس ہم نہ ہوں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سشما سواراج کا کہنا ہے کہ انھوں نے انسانی ہمدری کی بنیاد پر للت مودی کی مدد کی

گذشتہ ہفتے بھارتی وزیر خارجہ سشما سواراج وزیر اعظم نریندر مودی کے پسندیدہ پروجیکٹ ’یوگا ڈے‘ کو کامیاب بنانے میں لگی ہوئی تھیں، اس ہفتےانھیں ایک اور اہم فیصلہ کرنا ہے: اگر نوبت حکومت چھوڑنے پر آ جاتی ہے تو پھر گزر بسر کےلیے انھیں کیا کرنا چاہیے؟

یہ نوبت آ بھی سکتی ہے کیونکہ بحیثیت وزیر خارجہ انھوں نے گذشتہ برس للت مودی کو سفری دستاویزات دلوانے میں مدد کی تھی۔ ویسے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے لیکن انڈین پریمیئر لیگ کے سابق کمشنر للت مودی ذرا الگ مزاج کے آدمی ہیں اور ملک میں سنگین مالی جرائم کی تفتیش کرنے والے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو مطلوب ہیں۔

انھیں آئی پی ایل میں بڑے پیمانے پر بے ضابطیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ اور ہاں، وہ پانچ سال سے ملک سے بھاگے ہوئے ہیں اور گرفتاری سے بچنے کے لیے انھوں نے برطانیہ میں پناہ لے رکھی ہے۔ انھیں پکڑنے کے لیے ای ڈی نے ’لک آؤٹ سرکیولر‘ جاری کر رکھا ہے۔۔۔اور سابقہ حکومت نے ان کا پاسپورٹ تک رد کر دیا تھا۔

اور ہاں ایک دو باتیں اور ہیں۔ سشما سواراج کے شوہر وکیل ہیں، اور بیٹی بھی، اور دونوں للت مودی کے قانونی ماہرین کی ٹیم سے وابستہ رہے ہیں۔ اسی لیے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ سشما جی، آپ کا دھیان کدھر تھا؟ آپ ایک ایسے آدمی کی مدد کر رہی تھیں جسے آپ کی اپنی ہی حکومت ڈھونڈ رہی ہے!

Image caption آئی پی ایل کے سابق کمشنر للت مودی ملک میں سنگین مالی جرائم کی تفتیش کرنے والے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو مطلوب ہیں

اس لیے تھوڑا سا مسئلہ ہے۔ للت مودی پرتگال جانا چاہتے تھے، پاسپورٹ تھا نہیں۔ انھوں نے براہ راست سشما سواراج سے رابطہ کیا، کہا پرتگال میں بیوی کا کینسر کا آپریشن ہونا ہے، فارم پر دستخط کرنے کےلیے پرتگال میں ان کی موجودگی ضروری ہے، سشما سوراج نے ’انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایک ہندوستانی شہری کی مدد کی‘ اور اب اس کا خمیازہ بھگت رہی ہیں۔

سشما سواراج صاف بات کرنے کی عادی ہیں۔ وہ انتہائی شائستہ زبان استعمال کرتی ہیں، جس کی وجہ سے بی جے پی کے باہر بھی بہت سے لوگ انھیں پسند کرتے ہیں۔ اپنی صفائی میں ان کا کہنا ہے کہ للت مودی ہندوستانی شہری ہیں، انسانی ہمدری کی بنیاد پر میں نے ان کی مدد کی، وہ پرتگال گئے اور پھر واپس لندن آگئے، تو بدلا کیا جو اتنا ہنگامہ ہو رہا ہے؟

ان کی صفائی میں بھی دم ہے۔ لیکن ان سے اب کچھ دلچسپ سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ داؤد ابراہیم بھی ہندوستانی شہری ہیں، اگر وہ براہ راست سشما سواراج سے رابطہ کریں تو کیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وہ ان کی بھی مد کریں گی؟ اور اگر وہ یہ وعدہ کریں کہ وہ آج کل جہاں کہیں بھی ہیں، وہاں واپس چلے جائیں گے تو کیا ان کی درخواست پر زیادہ تیزی سے کارروائی ہوگی؟ کیونکہ وہ آئیں گے اور چلے جائیں گے، بدلے گا کچھ نہیں!

آپ کو یاد ہوگا کہ سشما سواراج نے ایک مرتبہ یہ اعلان کیا تھا کہ اگر سونیا گاندھی ملک کی وزیر اعظم بن جاتی ہیں تو وہ اپنا سر منڈوا دیں گی۔ اس وقت تو سونیا گاندھی نے حکومت کی ذمہ داری من موہن سنگھ کو سونپ کر انھیں بچا لیا تھا لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ وہ زیادہ گہرے گڑھے میں کود گئی ہیں۔

بہر حال، جب بھی باہر نکلیں، وہ اپنی ٹریول ایجنسی تو کھول ہی سکتی ہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے وزیر خارجہ سشما سوراج کی حمایت کی ہے

لیکن یہ ہفتہ صرف سشما سواراج کے لیے خراب نہیں رہا۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے وزیر قانون جیتیندر تومر آج کل جیل میں ہیں۔ بدعنوانی کے خلاف کسی احتجاج کے سلسلے میں نہیں، بس پولیس کا الزام ہے کہ ان کی قانون کی ڈگری جعلی ہے۔ اور بی ایس سی کی بھی!

گرفتاری کے بعد جیتیندر تومر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پہلے عام آدمی پارٹی ان کی گرفتاری کو وفاقی حکومت کی سازش بتا رہی تھی، اب اس نے جیتیندر تومر سے ذرا فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔

گذشتہ ہفتے عام آدمی پارٹی کے سابق وزیر قانون سوم ناتھ بھارتی بھی سرخیوں میں رہے، ان کی بیوی نے ان کے خلاف مار پیٹ کی شکایت درج کرائی ہے۔ مسٹر بھارتی کا الزام ہے کہ ان کی بیوی نے دہلی پولیس کے کمشنر کے بہکاوے میں آ کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ عام آدمی پارٹی بھی اس گہرے گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن بی جے پی کے رہنماؤں کی وجہ سے میڈیا کی نظر عام آدمی پارٹی کی طرف سے ذرا ہٹی ہے۔ مثال کے طور پر وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ سشما سواراج نے کچھ غلط نہیں کیا، پارٹی کے صدر اور وزیر اعظم کے معتمد خاص امت شاہ کا کہنا ہےکہ اس میں کوئی ایسا اخلاقی پہلو نہیں ہے جس کی ذمہ داری لے کر استعفیٰ دیا جائے، پارٹی سشما سواراج کے ساتھ ہے۔

لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کب تک!

اسی بارے میں