بھارت میں راہبہ کے ریپ کا ’مرکزی ملزم‘ گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملزمان نے رواں برس مارچ میں پہلے عیسائی راہباؤں کی خانقاہ کو لوٹا پھر ایک 74 سالہ راہبہ کو ریپ کیا تھا

بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی پولیس نے بوڑھی عیسائی راہبہ کے ریپ کے مقدمے کے ایک اور اہم ملزم نذرل کو گرفتار کر لیا ہے۔

ریاست کے کریمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا کہنا ہے کہ نذرل باقی دیگر ملزمان کی طرح ہی بنگلہ دیشی شہری ہیں اور واقعے کے بعد ملک سے فرار ہوگئے تھے۔

پولیس نے بتایا ہے کہ انھیں بدھ کی رات اس وقت پکڑا گیا جب وہ سیالدہ سٹیشن پر ٹرین سے اترے۔

نذرل کی گرفتاری کے بعد اس مقدمے میں حراست میں لیے جانے والے ملزمان کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

پولیس کا دعوی ہے کہ نذرل ہی وہ شخص ہے جس نے 14 مارچ کو 72 سالہ راہبہ کو ریپ کیا تھا۔

سی آئی ڈی کے ایک افسر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’اس سے پہلے حراست میں لیے گئے تمام پانچوں ملزمان نے نذرل کو راہبہ کے ساتھ ریپ کا مجرم قرار دیا تھا۔‘

ریپ کا یہ واقعہ کولکتہ سے 80 کلومیٹر دور رانا گھاٹ ٹاؤن میں پیش آیا تھا جہاں متعدد افراد نے کانونٹ آف جيزس اینڈ میری نامی خانقاہ کی تلاشی لینے اور وہاں توڑ پھوڑ کے بعد 12 لاکھ روپے چرائے اور پھر ایک راہبہ کو ریپ کیا تھا۔

راہبہ کے ریپ کے واقعے کے بعد پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی اور کئی شہروں میں احتجاجی جلوس نکالے گئے تھے۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس واقعے پر ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا تھا اور مغربی بنگال کی وزیرِ اعلیٰ ممتا بینرجی نے حملہ آوروں کے خلاف تیز اور سخت کارروائی کا وعدہ کرتے ہوئے کیس سی بی آئی کے سپرد کر دیا تھا۔

بھارت میں گذشتہ چند مہینوں میں کلیساؤں اور عیسائی اداروں پر متعدد حملے کیے گئے جس کی وجہ سے عیسائی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں