ایران کے وعدے پر افغان نوجوان شام میں

تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption ایسے شواہد سامنے آئے ہیں کہ ہزارہ برادری کے بے روزگار نوجوان مرد جو بہتر زندگی کے لیے افغانستان چھوڑ رہے ہیں وہ شام میں پہنچ جاتے ہیں

شام میں جاری مسلح تصادم میں ایسی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں جن میں بشار الاسد کے خلاف برسرِ پیکار جنگجوؤں کی قید میں نوجوان افغان مردوں کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے۔

جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ ان افغان مردوں کو ایرانی حکومت شام میں لڑنے کے لیے رقم دیتی ہے اور اگر وہ بچ کر واپس آ جائیں تو ان کے لیے پاسپورٹ اور نوکری کا وعدہ کیا جاتا ہے۔

اگرچہ بی بی سی ان ویڈیوز کی صداقت کی تصدیق نہیں کر سکی، لیکن ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جہاں ہزارہ برادری کے بے روزگار نوجوان مرد، جو بہتر زندگی کے لیے افغانستان چھوڑ رہے ہیں، شام میں پہنچ جاتے ہیں۔

کابل میں ایک 22 سالہ بے روزگار مرد نے بتایا کہ اس کے ساتھ ایران میں کیا ہوا تھا۔

’ہم سے نوکری اور شناختی کارڈ کا وعدہ کیا گیا۔ جب ہم ایران پہنچے تو ہمیں کچھ اور ہی بتایا گیا۔ ہمیں بتایا گیا کہ شام جاؤ اور لڑو۔ میں نے انکار کر دیا۔‘

لیکن بہت سے افغان نوجوان اس پیشکش کو رد نہ کر سکے۔ میں ہزارہ برادری کی دو خواتین کو جانتا ہوں جن کے پیارے شام لڑنے گئے ہیں۔ وہ انتقام کے خوف سے اپنا نام نہیں بتانا چاہتیں لیکن وہ یہ ضرور چاہتی ہیں کہ ان کی کہانی لوگوں تک پہنچے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ان کا شوہر شام لڑنے گیا تھا۔ ’وہ دو سال وہاں تھا اور پھر ہمیں بتایا گیا کہ وہ مارا گیا ہے اور اس کی تدفین ایران ہی میں ہوئی ہے۔ وہ پیسے کمانے گیا تھا اور ہماری زندگی بہتر بنانے گیا تھا لیکن جانے سے پہلے اس نے مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ f
Image caption ’نوجوان لڑکوں کو لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ورغلایا جا رہا ہے‘

اس خاتون نے مزید کہا: ’میرے بچوں پر بڑا برا اثر پڑا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں رہا۔ مجھے نہیں سمجھ آ رہا کہ میں بچوں کو کیا بتاؤں۔‘

ایک اور خاتون کو آٹھ ماہ سے اپنے 22 سالہ بیٹے کی جانب سے کوئی خیر خبر نہیں ملی ہے۔

’ہم کیا کر سکتے ہیں؟ ہمارے پاس اس کو ڈھونڈنے کے لیے دو ڈالر بھی نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کے دوست مارے گئے ہیں لیکن بیٹے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ہمارے پاس انتظار کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ایک ایک لمحہ گزارنا مشکل ہے۔‘

اس خاتون نے بتایا کہ نوجوان لڑکوں کو لڑائی میں حصہ لینے کے لیے ورغلایا جا رہا ہے۔

’بہت سارے لڑکے جا رہے ہیں۔ وہ بےروزگار ہیں اور ان کو بتایا جاتا ہے کہ پیسے اور مکان ملے گا۔ اگر وہ مر بھی جاتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا خاندان اچھی زندگی بسر کرے گا۔‘

ایران نے باضابطہ طور پر ان دعووں کے بارے میں بیان نہیں دیا، لیکن ایران کے ریاستی میڈیا کا کہنا ہے کہ شیعہ افغان لڑکے ’رضاکارانہ‘ طور پر شام جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں