کشمیر : دو علیحدگی پسند اور ایک عام شہری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وادی میں رمضان کی شروعات ہی کشیدگی سے ہوئی

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں پولیس اور فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں فوج اور نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ مسلح تصادم کے دوران مبینہ طور پر لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے جاوید بٹ اور ادریس نینگرو نامی دو مقامی علیحدگی پسند اور ایک عام شہری ہلاک ہو گیا ہے۔

تاہم کولگام کے ریڈوانی گاوں میں ہوئے مسلح تصادم کے دوران عام شہری عاصف تانترے کی ہلاکت کے بعد پورے ضلع میں کشیدگی کا ماحول ہے۔

فوج کے ایک افسر نے نامی مخفی رکھنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا: ’اتوار کی شب ریڈوانی میں مسلح شدت پسندوں کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تو فوج ، پولیس اور نیم فوجی دستوں نے علاقہ کا محاصرہ کیا۔ لیکن وہاں چھپے شدت پسندوں نے فائرنگ کی اس طرح تصادم شروع ہوا۔‘

فوج کا کہنا ہے کہ تصادم کے دوران دو فوجی اہلکار بھی زخمی ہوگئے، تاہم رات بھر علاقے میں لوگوں نے مظاہرے کیے۔ ریڈوانی سے ایک شہری غلام محمد نے بتایا کہ ، ’یہ کوئی ان کاؤنٹر نہیں تھا۔ پہلے سے گرفتار کیے گئے لڑکوں کو مارا گیا۔اسی لیے علاقہ میں غصہ ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ وہ لوگ شدت پسند تھے یا نہیں، لیکن انہیں فرضی جھڑپ میں مارا گیا۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ جب مسلح شدت پسندوں اور فورسز کے مابین تصادم جاری تھا تو محاصرے میں پھنسے شدت پسندوں کے حق میں لوگوں نے شدید مظاہرے کیے، جس کے دوران عاصف تانترے نامی نوجوان کو گولی لگی اور اس کی موت ہوگئی۔

گذشتہ روز بھی شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ میں پولیس کی ایک گاڑی میں پراسرار طور پر بم دھماکہ ہوا جس میں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے راولاکوٹ کا رہائشی ایک قیدی مارا گیا۔ پولیس اس معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ سوپور میں نامعلوم افراد کے ہاتھوں علیحدگی پسند کارکنوں، سابق شدت پسندوں اور عام شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد خوف وہراس کی لہر پائی جاتی ہے۔

دریں اثنا فوج کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح سحری کے وقت پاکستانی رینجرز نے جموں کے آر ایس پورہ سیکڑ میں بھارت کے ’انٹرنیشنل بارڈر‘ پر فوجی تنصیبات پر فائرنگ کی۔ اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ واضح رہے بھارت جموں میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحد کے ایک طویل حصہ کو بین الاقوامی سرحد قرار دیتا ہے، جبکہ پاکستان اسے ’ورکنگ باونڈری‘ کہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گذشتہ روز بھی شمالی کشمیر کے سوپور علاقہ میں پولیس کی ایک گاڑی میں پراسرار طور پر بم دھماکہ ہوا

وادی میں رمضان کا آغاز ہی کشیدگی سے ہوا۔ یکم رمضان جمعہ کے روز حکام نے وادی میں سیکورٹی پابندیاں نافذ کردیں جس کی وجہ سے تعلیمی اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہوگئیں۔ دراصل جمعہ کے روز علیحدگی پسندوں نے سرینگر سے سوپور تک پچاس کلومیٹر کے احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا۔

علیحدگی پسندوں کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد خفیہ ایجنسیوں نے کشمیر میں خانہ جنگی کا منصوبہ بنایا ہے جس کے تحت سوپور میں پراسرار ہلاکتوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس حوالے سے بھارتی وزیردفاع منوہر پریکر کا بیان نقل کیا جاتا ہے، جس میں منوہر پریکر نے کہا تھا کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ دہشت گردی سے کیا جائے گا، کیونکہ کانٹے سے کانٹا نکلتاہے۔‘

لیکن پولیس کا اصرار ہے کہ کشمیر موجود باقی ماندہ شدت پسندوں کے درمیان بالادستی کی جنگ چل رہی ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دُلت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’سوپور کا گیم اب گیلانی صاحب کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔‘

پولیس نے سوپور میں ہوئی حالیہ ہلاکتوں کے حوالے سے حزب المجاہدین کے دو شدت پسندوں کے پوسٹر جاری کردیے اور انھیں قتل کی ان وارداتوں میں ملوث بتا کر ان کے سر پر 20 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ لیکن اشتہار پر جو تصویر حزب المجاہدین کے قیوم نجار کے طور پر شائع کی گئی تھی ، وہ اب کپوارہ کے دکاندار عرفان شاہ کی ثابت ہوئی ہے۔ عرفان نے پولیس افسروں کے پاس جاکر فریاد کی تو پولیس نے غلطی کے لیے معافی مانگی، ’کیونکہ قیوم نجار کی شکل عرفان سے ملتی ہے۔‘

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ نجار نے 16 برس کی عمر میں شدت پسندوں کی صفوں میں شمولیت کی ہے، اور اس کی تازہ تصویر پولیس کے پاس موجود نہیں ہے۔

اسی بارے میں