بھارت میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے70 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارت کی ریاست گجرات میں مون سون کی لگاتار بارشوں سے بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں اور سیلابی ریلوں سے متاثرہ علاقوں میں کم سے کم 70 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

حکام کے مطابق انڈین ائیرفورس کے ہیلی کاپٹر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے پانی سے گھرے ہوئے لوگوں کے لیے خوراک گرا رہے ہیں۔

کم از کم دس ہزار لوگوں کو پانی کے ریلوں سے بچاکر اونچے اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ اِن میں ایسے ہزار افراد بھی ہیں جنھیں ہیلی کاپٹروں کی مدد سے نکالا گیا ہے۔

شدید بارشوں سے بہت سےگھروں کی چھتیں گر گئیں۔ بعض متاثرہ افراد کے مطابق موجود سیلاب گجرات میں گذشتہ 90 برس کا کا بدترین سیلاب ہے۔

انڈیا میں مون سون کے دوران شدید سیلاب اکثر آتے ہیں۔ ملک میں سالانہ بارشوں کا 80 فیصد مون سون کے تین چار مہینوں کے دوران برستا ہے۔

اِس بار امریلی کا ساحلی ضلع سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں 600 سے زیادہ دیہات سیلاب کی زد میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ریاست کے وزیرصحت نتن پٹیل نے بی بی سی کو بتایا کہ کسان سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں کیونکہ کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں۔

ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ جوناگڑھ میں گیر کے جنگلات بھی سیلابی ریلے سے متاثر ہوئے ہیں اور وہاں سے شیر بھی آبادیوں کی طرف نکلے ہیں۔ یہ علاقہ ایشیائی شیروں کی واحد پناہ گاہ ہے۔

دوسری جانب بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں سیلاب سے بچاؤ کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ گذشتہ برس یہاں شدید بارشوں کے بعد سیلاب میں تین سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

حکام کے مطابق دارالحکومت سرینگر سے گزرنے والا دریائے جہلم خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔

اتراکھنڈ میں بھی حکام نے کیدارناتھ کے ہندو مقام کے لیے زیارتیں شدید بارشوں کے باعث عارضی طور پر روک دی ہیں۔

اسی بارے میں