’افغان جنگجو دولت اسلامیہ کی قیادت سے رابطے میں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دولت اسلامیہ کے اہم گروپ سے منسلک ویب سائٹ کے بعض حصے ’خراسان میں دولت اسلامیہ‘ کے لیے مخصوص ہیں

افغانستان میں کام کرنے والے ایک سینیئر امریکی فوجی کمانڈر کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دولت اسلامیہ سے منسلک جنگجو شام میں اس شدت پسند تنظیم کی قیادت سے رابطے میں ہیں۔

افغان سپیشل فورس کو تربیت دینے والے ایک یونٹ کے سربراہ جنرل شان سوئنڈل نے کہا کہ غیر مطمئن طالبان جنگجوؤں نے ایک ’فرینچائز‘ قائم کر لی ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ افغانستان میں اس قدر سنجیدہ نہیں ہے جس قدر وہ لیبیا یا عراق میں ہے۔

حالیہ ہفتوں کے دوران مشرقی افغانستان میں اس نئے گروپ اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

طرفین نے اتحاد کی اپیل کو مسترد کر دیا اور جنگ ننگرہار صوبے کے کئی اضلاع میں پھیل گئی جو کہ تورا بورا کے غاروں والے علاقے سے زیادہ دور نہیں جہاں کبھی القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن چھپے رہے تھے۔

دولت اسلامیہ کے اہم گروپ سے منسلک ایک ویب سائٹ کے بعض حصے اب مکمل طور پر ’خراسان میں دولت اسلامیہ‘ کے لیے مخصوص ہیں۔ خیال رہے کہ خراسان افغانستان اور اس سے ملحقہ علاقوں کا پرانا نام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ دنوں افغانستان کے سابق طالب جنگجوؤں اور غیر مطمئن عناصر نے دولت اسلامیہ سے وابستگی کا اظہار کیا تھا

اسی ویب سائٹ پر ایک حالیہ بیان میں طالبان جنگجوؤں کو دولت اسلامیہ میں شامل نہ ہونے کی صورت میں موت کی دھمکی دی گئی ہے۔

اس پوسٹ میں کہا گیا ہے: ’آپ دولت اسلامیہ سے جنگ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا آپ اپنی قبر خود کھودنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا سر تن سے جدا کیا جائے اور آپ کے گھر تباہ کر دیے جائیں؟ کیا آپ کو یہ گمان ہے کہ آپ عراقی ملیشیا سے زیادہ طاقت ور ہیں جن کی پشت پر امریکہ کھڑا ہوا ہے؟‘

بظاہر یہ پوسٹ طالبان کی براہ راست اتحاد کی اپیل کا منھ توڑ جواب ہے۔

طالبان نے دولت اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی کے نام ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان کی جنگ میں ’دو پر چم‘ نہیں لہرا سکتے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے ’مجاہدین کی قوت تقسیم ہو کر رہ جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption طالبان نے دولت اسلامیہ کے رہنما کے نام پیغام بھیجا تھا کہ افغانستان کی جنگ میں دو پرچم نہیں لہرا سکتے

لیکن اس کے برعکس ننگرہار کے معرکے میں دولت اسلامیہ کے حامیوں کو طالبان کے رہنما ملا محمد عمر کو قتل کرنے کے لیے لوگوں پر زور دیتے ہوئے دیکھا گيا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’جب ایک خلیفہ بغدادی موجود ہے تو دوسرے کی کیا ضرورت ہے۔‘

’خراسان میں دولت اسلامیہ‘ کی پہلی علامت پاکستان کے سرحدی علاقے میں جنوری میں نمودار ہوئی تھی۔

کئی سابق طالبان جنگجوؤں نے، جن میں ایک افغان کمانڈر بھی شامل تھے، اس نئے گروپ سے وابستگی کا عہد کیا تھا۔

اب دولت اسلامیہ کی دھمکیوں کے شواہد کے طور پر طالبان جنگجوؤں کی سربریدہ اور گولیوں سے چھلنی تصاویر افغانستان اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر نظر آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’خراسان میں دولت اسلامیہ‘ کی پہلی علامت پاکستان کے سرحدی علاقے میں جنوری میں نمودار ہوئی تھی

یہ نئی معرکہ آرائیاں افغان فورسز کے لیے پیچیدہ سکیورٹی چیلنج ثابت ہوں گی کیونکہ انھیں پہلی بار زمین پر بغیر بین الاقوامی فوجیوں کے تعاون کے گرمیوں کی جنگ سے سابقہ ہو گا۔

جنرل سوئنڈل نے کہا کہ افغان کی سپیشل فورس ہر ہفتے تقریبا 130 چھاپے مار رہی ہے جن میں سے معدودے چند میں ہی بین الاقوامی فوجیوں کا تعاون حاصل تھا اور وہ بھی منصوبہ بندی اور کنٹرول روم تک محدود تھا۔

جنرل سوئنڈل نے کہا کہ مغربی صوبہ فراہ بھی اس نئی تحریک کے خطرے سے دوچار ہے اور وہ لوگ طالبان کے ساتھ وسائل کے لیے مقابلے میں ہیں۔

اس نئی تحریک نے افغانستان کے شہریوں کو نئی پریشانیوں میں ڈال دیا ہے اور ننگرہار کی جنگ سے بچنے کے لیے ہزاروں لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال ملک میں اب تک چار ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں