بھارت اور قزاقستان: توانائی اور تیکنیکی مہارت میں تعاون

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 7 جولائی کو قزاقستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے۔ اس کے ٹھیک دو ماہ پہلے7 مئی کو چینی صدرشی جن پنگ دو روزہ دورے پر قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچے تھے۔

اپنے دورہ کے دوران بھارتی وزیراعظم جن امور پر دو طرفہ معاہدوں پر قزاقستان کے صدر نور سلطان نذر بائیوف کے ساتھ دستخط کریں گے ان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، بینکاری، تجارتی راہدریوں کا قیام، افسران کی پیشہ ورانہ تربیت اور دوا سازی کے شعبے میں تعاون شامل ہیں۔

تاہم جن امور پر بھارت و قزاقستان روایتی تعاون سے بڑھ کر سٹریٹیجک تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں ان میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی صنعتوں کے ساتھ ساتھ خلائی منصوبوں میں شراکت داری قابل ذکر ہیں۔

اس دورہ کی اہمیت جاننے کےلیے ضروری ہے کہ ایک نظر بھارت کی توانائی کی بڑھتی طلب پر بھی ڈالی جائے۔ بجلی کی حصول کےلیےاس وقت بھارت میں 21 ایٹمی پلانٹ چل رہے ہیں جبکہ 6 مزید زیر تعمیر ہیں۔

جن سب میں توانائی کی پیداوار کے لیے یورینیم کی ضرورت ہے۔ اس وقت بھارت اپنی بجلی کی کل پیداوار کا محض تین فیصد ایٹمی توانائی سے حاصل کرتا ہے جو کہ تقریباً 6000 میگا واٹ ہے۔ اگلے سترہ برسوں میں اس شرح کو 20 فیصد تک بڑھانے کا منصوبہ ہے جس کے نتیجے میں ایٹمی طاقت سے 45000 میگا واٹ تک بجلی حاصل ہوسکے گی۔

یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب بھارت کو یورینیم کی رسد بلا روک ٹوک حاصل ہوتی رہے، کیونکہ ملک میں اس کی پیداوار 350 – 400 میٹرک ٹن تک ہے۔ اپنی معیشت کے مسلسل پھیلاؤ کے لیے بھارت کو ایسے حلیفوں کی تلاش ہے جو اس کی بڑھتی ضروریات کو پورا کرسکیں۔وسطی ایشیا کا ملک قزاقستان جہاں تیل و گیس کی دولت سے مالا مال ہے وہیں یورینیم کے15 فیصد عالمی ذخائر کا بھی مالک ہے۔

2009 میں قزاقستان یورینیم برآمد کرنے والا ایک بڑا ملک بن گیا۔ 1972 سے 1999ء تک مغربی قزاقستان میں ایٹمی توانائی سے آقتاؤ کے مقام پر بجلی گھر فعال رہا ہے۔ اب بھارتی ماہرین نے قزاقستان کو بھاری پانی سے چلنے والے بجلی گھر کے قیام میں تعاون کی پیش کش کی ہے جو دونوں ممالک کو تعاون کے نئے بندھن میں پرو دے گا۔

سنہ 2008 اور 2014ء کے درمیان بھارت نے قزاقستان سے 2100 ٹن یورینیم درآمد کی اس کے علاوہ روس سے 2058 ٹن اور فرانس سے300 ٹن یورینیم حاصل کی۔ سنہ 2009 تک اپنے شہری ایٹمی منصوبوں پر ایٹمی توانائی کے عالمی کمیشن کی نگرانی کے معاہدے پر آمادگی تک بھارت کو مغربی ممالک سے یورینیم کے حصول پر پابندیوں کا سامنا رہا ہے خصوصاً کینیڈا کی جانب سے جس نے 1954 میں بھارت کے پہلے ایٹمی بجلی پلانٹ کی تعمیر میں تعاون کیا تھا۔

تاہم 1974 میں بھارت کے پہلے فوجی ایٹمی تجربے کے بعد یورینیم اور آلات کی فروخت پر پابندی لگا دی تھی۔ اپریل 2015 میں کینیڈا اور بھارتی حکومت نے معاہدہ کیا جس کے تحت بھارت کو اگلے پانچ برسوں میں3,200 ٹن یورینیم 350 ملين ڈالر معاوضہ پر فروخت کی جائے گی۔

بھارت کی کوشش ہے اپنی صنعوں کی توانائی کی ضروریات کے لیے اس کے پاس متنوع رسد کے ذرائع دستیاب رہیں تاکہ پیداوار میں کوئی روکاوٹ نہ آسکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سن 2010 – 2011ء کے مالی سال کے دوران بھارت میں 522 ملین ٹن تیل کے برابر توانائی کی ضرورت پڑی۔ خیال رہے کہ یہ طلب17-2016 میں 681 -- 738 ملین ٹن تیل کے برابر جا پہنچے گی جس میں 70 فیصد ضرورت کو درآمد کرنا پڑے گا۔

اپنی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کےلیے بھارت کو طویل المدت فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے بھارتی تیل و قدرتی گیس کی کارپوریشن ONGC نے قزاقستان کے بحیرۂ کیسپیئن میں واقع ذخائر میں 8:42 فیصد حصص خریدنے کی كوشش کی، نیز علیبیک مولی کے تیل کے ذخائر میں 15 فیصد اور زیر سمندر توانائی کے 25 فیصد ذخائر کی تلاش کےلیے حصہ حاصل کیا اس کے ساتھ ہی قاذمنائی گیس کے تیل کے ذخائر میں 1.5 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری یہ سب اس جانب چند اہم اقدامات میں شامل ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب قزاقستان تیل کی گرتی قیمتوں کے سبب اپنے اخراجات میں کمی کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے بھارت کی جانب سے تجویز کردہ منصوبوں میں اس کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب عالمی کساد بازاری اور علاقے میں شراکت کے لیے نئے مواقع فراہم کیے ہیں جن کو بھارت مہلت کا کھلا درواز بند ہونے سے پہلے اپنے حق میں حاصل کرنا چاہے گا۔

تیکنیکی مہارت کی منتقلی اور شراکت کا ایک اور قابل ذکر منصوبہ بھارت کی جانب سے قزاقستان کے دارالحکومت میں گمیلیف یونیورسٹی میں ایک مرکز بنانے کی پیشکش کی ہے جہاں بھارت میں تیار کردہ سپر کمپیوٹر نصب کیا جائے گا۔

بھارت قزاقستان میں واقع خلائی تحقیق کے اڈوں کا استعمال کرنا چاہتا ہے جس کے سبب یہ ممکن ہوسکے کہ بھارتی خلائی مشن چاند اور مریخ پر روانہ کیا جاسکے۔

اسی بارے میں