افغان منشیات سے خطے بھر کو خطرہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وسطی ایشیا کے عسکریت پسند گروہ منشیات کے بڑے بیوپاری ہیں اور وہ اپنا دائرہ روس، یورپ اور تیزی سے چین میں بھی بڑھا رہے ہیں

افغانستان کے شمالی علاقوں میں لڑائی کی شدت سے تاجکستان اور وسطی ایشیا کے راستے روس اور یورپ میں منشیات کی منقتلی میں اضافہ ہوسکتا ہے؟ خطے کے حکام کو اسی بات پر تشویش ہے۔

تاجکستان کی ڈرگ کنٹرول ایجنسی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رستم نذروف نے مجھے دوشنبے میں بتایا: ’منشیات کی صورت حال کا دار و مدار افغانستان پر ہے، کیونکہ ہم جو بھی منشیات پکڑتے ہیں وہ افغانستان سے آتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان دنیا بھر میں افیون کی 90 فیصد پیداوار مہیا کرتا ہے اور اگر افغان حکومت افغان تاجک سرحد پر، جو کہ صرف دریائے پنج پر مشتمل ہے، کنٹرول کھو دیتی ہے تو اس میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

افغان اور پاکستانی طالبان، وسطی ایشیا کے متعدد گروہوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان سے متصل افغانستان کے شمالی صوبوں پر تسلط قائم کر چکے ہیں۔

جنرل نذوف کا کہنا ہے: ’ہم افغانستان میں خراب سے خراب تر ہوتی ہوئی جنگ کی صورت حال دیکھ رہے ہیں اور افغان سرحدی علاقوں پر جتنا جنگجوؤں اور شدت پسندوں کا زیادہ کنٹرول ہو گا، منشیات کا بہاؤ اس قدر زیادہ ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان دنیا بھر میں افیون کی 90 فیصد پیداوار مہیا کرتا ہے

جنرل نذروف اور دوشنبے میں مغربی سفارت کاروں کے مطابق عسکریت پسند گروہوں کو مالی ضروریات منشیات کی فروخت سے پوری ہوتی ہیں۔ وسطی ایشیا کے عسکریت پسند گروہ منشیات کے بڑے بیوپاری ہیں اور وہ اپنا دائرہ تیزی سے روس، یورپ اور چین میں بھی بڑھا رہے ہیں۔

جنرل نذروف کہتے ہیں: ’تمام وسطی ایشیائی گروہ مثلاً اسلامی موومنٹ آف ازبکستان اور انصاراللہ، اور اس کے ساتھ ساتھ طالبان اور دولت اسلامیہ کے کچھ حصے، منشیات کی فروخت میں ملوث ہیں۔‘

اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم اس خطے میں نسبتاً ایک نئی کھلاڑی ہے اور حالیہ مہینوں میں افغانستان میں اس نے اپنا اثر و رسوخ بڑھایا ہے۔

ماضی میں افغان منشیات کی کھیپ سرحد پر ارسال کر کے وسطی ایشیائی گروہوں کے حوالے کر دی جاتی تھی تاہم تاجک حکام کے مطابق اب طالبان اور دیگر افغان گروہوں کے افغان نمائندے ماسکو اور روس کے دیگر شہروں میں رہ رہے ہیں، تاکہ منشیات کے روس اور یورپ پہنچنے پر وہ منافعے کا زیادہ حصہ خود وصول کر سکیں۔

دوشنبے میں تاجک منشیات حکام اور مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ تاجک افغان سرحد پر ایک کلوگرام ہیروئن کی قیمت 20 ہزار ڈالر ہے، لیکن پیرس یا لندن پہنچنے پر یہ چار لاکھ ڈالر ہوجاتی ہے۔ افغان اور وسطی ایشیائی افراد نے یورپی منڈی سے بین الاقومی منشیات فروشوں کا صفایا کر دیا ہے، وہ منشیات فراہم کرنے والے افغان ذرائع کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2014 میں تاجک ڈرگ کنٹرول ایجنسی نے چھ ٹن ہیروئن اور افیون پکڑی تھی

روسی وزیرخارجہ سرگے لاوروف نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ ’افغانستان میں منشیات کی پیداوار خطرناک رفتار سے بڑھ رہی ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن نہ صرف ملک میں دہشت گرد گروہ حاصل کر رہے ہیں بلکہ اس کے سرحدوں کے باہر بھی۔‘

سنہ 2014 میں تاجک ڈرگ کنٹرول ایجنسی نے چھ ٹن ہیروئن اور افیون پکڑی تھی تاہم یہ افغانستان کی 65 سو ٹن پیداوار کے مقابلے پر آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

منشیات اور جرائم سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر یو این او ڈی سی کا کہنا ہے کہ سنہ 2014 میں افغانستان میں افیون کی کاشت کے رقبے میں سات فیصد اضافہ ہوا ہے، اگرچہ یہ پیداوار افغانستان کے 34 میں سے صرف نو صوبوں تک محدود ہے۔

جنرل نذروف کا اندازہ ہے کہ 20 سے 22 فیصد افغان منشیات شمالی راستے سے بذریعہ تاجکستان اور ازبکستان یورپ پہنچتی ہے۔ مزید 45 فیصد ایران اور تقریباً 38 فیصد پاکستان کے راستے جاتی ہے۔ ایسے اعداد و شمار کی تصدیق کرنا ناممکن ہے۔ دیگر ڈرگ کنٹرول ایجنسیوں نے ایسے تخمینے جاری نہیں کیے۔

تاجک ڈرگ کنٹرول ایجنسی اہم حکومتی اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کو یو این ڈی سی، یورپ میں آرگنائزیشن فار سکیورٹی اینڈ کوآپریشن اور شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کی جانب سے بھی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنرل نذروف کا اندازہ ہے کہ 20 سے 22 فیصد افغان منشیات شمالی راستے بذریعہ تاجکستان اور ازبکستان یورپ پہنچتی ہے

جنرل نذروف اس وقت کو یاد کرتے ہیں کہ 1970 کی دہائی میں سویت دور حکومت میں تاجک سرحد پر محافظ سال میں محض دس سے 15 کلوگرام منشیات پکڑتے تھے، جس میں زیادہ تر چرس شامل ہوتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں خانہ جنگی کے بعد افیون اور ہیروئن کا بہاؤ بڑھا ہے۔

تاجک سرحد پر پہلی بار سنہ 1995 میں ہیروئن پکڑی گئی تھی۔ ڈرگ کنٹرول ایجنسی اس کے چار سال بعد قائم کی گئی تھی۔ روس اور وسطی ریاستوں میں حکام اس بات پر بھی برہم ہیں کہ نیٹو اور امریکی افواج نے سنہ 2001 میں افغانستان آنے کے بعد منشیات کے مسئلے پر قابو پانے پر بہتر انداز میں اقدامات کیوں نہیں کیے۔

جنرل نذروف کہتے ہیں: ’ان کے پاس منشیات پر قابو پانے کی کوئی پالیسی نہیں ہے اور اب ہمیں بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔‘

منشیات کے اثرات بدترین ہونے کا امکان ہے۔ چین اور روس دونوں ممالک میں منشیات کے عادی افراد میں بہت اضافہ ہوا ہے، جس سے منشیات فروشوں کو نئی منڈیاں اور منافع حاصل ہو رہے ہیں۔

تاحال افغانستان میں منشیات کی پیداوار روکنے کے لیے کوئی بین الاقوامی منصوبہ نہیں ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہو گا افغانستان کے ہمسائیوں کو یہ اذیت جھیلنا ہو گی۔

اسی بارے میں