’مجھ پر جہنم کے دروازے کھل گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ SethShruti
Image caption شروتی سیٹھ اداکارہ ہیں اور انھیں ٹی وی سیرئل شرارت سے بہت زیادہ مقبولیت ملی تھی

سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر تبصرہ کرنے کے بعد اداکارہ شروتی سیٹھ کو بہت سے نفرت انگیز پیغامات ملے۔ شروتی نے اب وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ٹوئٹر پر کھلا خط لکھا ہے۔

پڑھیے شروتی سیٹھ کا مکمل خط

میں یہ خط پوری قوم کے نام لکھ رہی ہوں کیونکہ کسی ایک شخص کو سوا ارب لوگوں کی فکر کو تبدیل کرنے کے لیے ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

تبدیلی اسی وقت آ سکتی ہے جب انفرادی سطح پر بیداری آئے۔

28 جون کی صبح میں نے SelfiWithDaughter# مہم، جسے وزیر اعظم کی سرپرستی حاصل تھی، پر اپنی رائے ظاہر کرنے کی فاش غلطی کی تھی۔

زیادہ تر لوگوں کی نظر میں یہ مہم اور لڑکیوں کے رحم مادر میں قتل کیے جانے کے خلاف بیداری کا اچھا طریقہ تھا۔

لیکن مجھے یہ خیال نہیں بھایا۔ ذہن نشین رہے کہ میری اپنی 11 ماہ کی ایک بیٹی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلفی ود ڈاٹر میں وزیر اعظم کی دلچسپی کے بعد ہزاروں سیلفیز پوسٹ کی گئی

وزیر اعظم مودی کی اپیل پر لوگوں نے بیٹیوں کے ساتھ سیلفيز شیئر کی تھیں۔

جس شخص کو تبدیلی کا نیا دور لانے والا کہا جا رہا ہے، میں اس سے ایسی چھوٹی اور سطحی مہمات کی نہیں بلکہ کچھ ٹھوس کرنے کی امید کرتی ہوں۔

اس کے بعد میں نے اس سے بھی بڑی غلطی اپنے خیالات کو ٹوئٹر پر عوام کے سامنے لا کر کی۔ اس لیے میں نے نہ صرف سوچنے کی ہمت کی بلکہ اپنے خیالات کو عوامی سطح پر پیش کرنے کی ہمت بھی کی۔

اور پھر، اگر شیکسپیئر کے الفاظ میں کہا جائے تو، مجھ پر جہنم کے دروازے کھل گئے، میرے خلاف نفرت انگیز ٹویٹ کی سونامی آ گئی۔ مسلسل 48 گھنٹے تک۔

ٹوئٹس میں مجھے، میرے خاندان کو، میرے مسلمان شوہر کو میری 11 ماہ کی بیٹی اور ایک اداکارہ کے طور پر میرے ’روبہ زوال کریئر‘، کو نشانہ بنایا گیا۔

میں نے اپنے وزیر اعظم کو SelfieObsesed# (سیلفي سے بہت متاثر ) کہا تھا اور ان سے ’نوٹنکی‘ کے بجائے اصلاحات کرنے کے لیے کہا تھا۔ کیا یہ غلط ہے؟ کیا یہ بہت سخت بات تھی؟ بظاہر جو ان کی اور ان کی حکومت کی حمایت کرتے ہیں ان کے لیے یہ غلطی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption خواتین کے مسائل اٹھانے والی ایک سرگرم کارکن کویتا کرشنن نے بھی وزیرا اعظم کی مہم پر تنقید کی تھی اور انھیں بھی گالی گلوچ کا سامنا رہا تھا

ایک ٹیکس ادا کرنے والے ہندوستانی شہری کے ناطے کیا میرا اس ملک کی پالیسیوں پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے؟

میں نے ان کے اقتدار کو چیلنج کرنے کی ہمت کی۔ میں نے ملک کے سب سے بڑے دفتر (اصل میں جو صدر کا ہے) کی توہین کی۔

اس لیے مجھے سزا تو ملنی ہی چاہیے تھی۔ سزا بھی ایسی جو ٹوئٹر کی گمنامي کا فائدہ اٹھانے والے لوگ دے سکتے ہیں۔

عورتوں اور مردوں نے یکساں طور پر میرے بارے میں بھدی سے بھدی باتیں کہیں۔ میری ایک بیٹی کے طور پر، ایک بیوی کے طور پر، ایک ماں کے طور پر اور سب سے بڑھ کر ایک عورت کے طور پر جو بھی عزت ہے، وہ چھین لی۔

جو مرد چند منٹ پہلے اپنی بیٹیوں کے ساتھ سیلفي پوسٹ کر رہے تھے وہ اگلے ہی لمحے میرے بارے میں اشتعال انگیز اور ناشائستہ باتیں کہہ رہے تھے۔

مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ مجھے اپنے اصلی باپ کا نام پتہ ہے یا نہیں۔ سوال کر رہے تھے کہ بچپن میں میرا جنسی استحصال تو نہیں ہوا جس کے سبب میں سیلفي ود ڈاٹر کی مخالفت کر رہی ہوں۔ اور یہ تبصرے تو تقابلی طور پر مہذب ہیں۔ شاباش مردو! تمہاری بیٹیوں کو تم پر ضرور فخر ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption شروتی سیٹھ نے وزیر اعظم مودی کو سیلفی سے بہت زیادہ متاثر شخص کہا تھا

خواتین جنھیں ایک دوسرے کو مضبوط کرنا چاہیے وہ مجھ سے پوچھ رہیں تھیں کہ کیا میں طوائف ہوں اور کیا میں اپنی بیٹی کو بھی طوائف بنانا چاہتی ہوں؟ اور کیا میں وزیر اعظم کے نام کا استعمال کر کے اپنے ناکام کریئر میں دوبارہ جان ڈالنا چاہتی ہوں اور سستی مقبولیت حاصل کرنا چاہتی ہوں؟

میں یہ سوچ کر ہی كانپ جاتی ہوں کہ آپ کے بیٹوں کے ذہن میں خواتین کے متعلق کتنا احترام پیدا ہوگا۔

سوال یہ ہے کہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ سیلفي لینے سے کیا ہوگا، جب آپ خود ہی ان کی پرورش کے لیے زہریلا ماحول بنا رہے ہیں؟ تصویر لینے سے ہمارے معاشرے میں گہرائي تک پیوست مردوں کی افضلیت اور عورتوں کے متعلق نفرت کیسے کم ہو جائے گی؟

آپ بیٹیوں کی تعداد بڑھانے کی فکر کیوں کرتے ہیں جب آپ ان کے ساتھ اتنا برا سلوک کرتے ہیں اور عدم مساوات کا مظاہرہ کرتے ہیں؟

وہ سب جو 48 گھنٹوں تک میرے پیچھے پڑے رہے، کیا ایک لمحے کے لیے یہ سوچیں گے کہ میں بھی کسی کی بیٹی ہوں۔ کیا آپ نے خود سے کبھی یہ پوچھا کہ اگر آپ کی بیٹی کے ساتھ ایسا کیا جاتا تو آپ کو کیسا لگتا؟ میں جانتی ہوں کہ اس کا جواب نہیں ہے کیونکہ آپ سب تو تصاویر لینے میں اور اپنی SelfieWithDaughter پر لائک اور ری ٹويٹ حاصل کرنے میں مصروف تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی کی سیلفی میں گہری دلچسپی نظر آتی ہے

جہاں تک ہمارے قابل احترام وزیر اعظم کا سوال ہے، میں ان سے صرف یہی کہنا چاہتی ہوں:

محترم سر، اگر آپ واقعی خواتین کو بااختیار کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ اپنے نام پر اس طرح سے نفرت پھیلائے جانے کی تنقید کریں۔

مجھے افسوس ہے کہ میں نے رد عمل کے بعد اپنا ابتدائی ٹویٹ ڈليٹ کر دیا لیکن میں نے اس میں جو کہاتھا میں اس فیصلے پر قائم ہوں اور اس کا اعادہ کرتی ہوں کہ ’سیلفي سے تبدیلی نہیں آتی ہے، اصلاحات سے آتی ہے۔ اس لیے کوشش کیجیے اور ایک تصویر سے اوپر اٹھیے۔‘

اور جہاں تک اس مہم کے بارے میں میری ابتدائی رائے کا سوال ہے کہ یہ کچھ نہیں صرف ظاہر داری ہے، میں یہ جان کر غمگین ہوں کہ آخر میری رائے ہی سچ ثابت ہو گئی ہے۔

اسی بارے میں