بھارتی پولیس پر’خاتون کو نذرِ آتش‘ کرنے کا الزام

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

بھارتی ریاست اترپردیش بری طرح جھلسی ہوئی ایک عورت ہلاک ہو گئی ہے جس نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے اسے نذرِآتش کیا تھا۔

نیتو دویدی نے ایک مجسٹریٹ کے سامنے بیان میں کہا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے اُس سے ایک لاکھ روپے رشوت مانگی تھی اور اُس کے انکار پر دو پولیس اہلکاروں نے تھانے کے اندر اسے نذرِآتش کردیا تھا۔

نیتو دویدی اپنے شوہر کی رہائی کے لیے پوثلیس سٹیشن گئی تھی جسے پولیس نے ایک جرم کی تفتیش کے لیے حراست میں لیا تھا۔

ذمہ دار ٹھہرائے جانے والے پولیس اہلکاروں نے الزام کو رد کیا ہے اور کہا ہے کہ نیتو دویدی نے خود کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔

ملزم پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے اور ریاست کے وزیراعلٰی اکھلیش یادو نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

ایک سینیئر پولیس اہلکار عبدالحمید نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بارہ بنکی شہر میں پیش آیا۔

نیتو دویدی کا جسم اسی فیصد جھلس گیا تھا اور انہیں علاج کے لیے ریاستی دارالحکومت لکھنؤ کے ہسپتال میں داخل کردیا گیا تھا جہاں منگل کی صبح وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

لیکن موت سے پہلے ایک مجسٹریٹ اور نامہ نگاروں کے سامنے الزام لگایا تھا کہ جب انھوں نے رشوت دینے سے انکار کیا تھا تو پولیس اہلکاروں نے اُن کی تذلیل کی اور اُن سے بدسلوکی کی۔

نیتو دویدی کا بیٹا جو ایک ہندی اخبار سے وابستہ صحافی ہے، اُس کا کہنا ہے کہ وہ انصاف چاہتا ہے اور اُس کی ماں کی روح کو صرف اِسی صورت میں چین ملے گا جب ذمہ داروں کو سزا ملے گی۔

اِس تازہ واقعے سے صرف ایک ماہ پہلے اترپردیش کے ہی شاہجہاں پور ضلعے میں پولیس نے مبینہ طور پر ایک صحافی جگیندرا سنگھ کو نذرِ آتش کردیا تھا۔

اسی بارے میں