ایران کا جوہری پروگرام: ’مذاکرات میں مزید توسیع نہیں ہونی چاہیے‘

ویانا میں ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شامل وزرائے خارجہ تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایران اور عالمی طاقتیں پیر کی ڈیڈلائن ختم ہونے سے پہلے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری مذاکرات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے اور اس کے بدلے میں ایران پر سے اقتصادی پابندیاں ہٹائی لی جائیں۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ بات چیت مکمل کیا جائے۔

مذاکرات کے لیے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی معاہدہ مکمل نہیں ہو سکتا لیکن ایک ’اچھے معاہدے کے لیے شرائط کا تعین کر دیا گیا ہے۔‘

ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کے موقعے پر کہا کہ ’مذاکرات میں مزید توسیع نہیں ہونی چاہیے لیکن جب تک ضروری ہوا، وہ کام کرتے رہیں گے۔‘

ایران کے صدر حسن روحانی ایران اور مغربی ممالک کے درمیان حتمیٰ جوہری معاہدے پر مذاکرات میں پیش رفت پر عوام سے خطاب کریں گے۔

ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اِرنا کے مطابق صدر حسن روحانی کا خطاب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن سے براہِ راست نشر کیا جائے گا۔

ایران کے صدر اپنے خطاب میں جوہری مذاکرات میں کامیابیوں کے بارے میں بتائیں گے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ صدر کا خطاب مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے نشر کیا جائے گا۔ اِرنا کے مطابق صدر روحانی اپنے خطاب میں عوام کو بتائیں گے کہ جوہری مذاکرات کب تک مکمل ہو سکتے ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان حتمیٰ جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات رواں ہفتے کے اختتام تک مکمل ہو جائیں گے لیکن بعض حل طلب مسائل پر بات چیت اس کے بعد بھی جاری رہ سکتی ہے۔

بعض سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ انھیں مذاکرات کے بارے میں بات کرنے کی اجازت نہیں اس لیے انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دو نکات پر اتفاق رائے ہونا ابھی باقی ہے۔

ان میں ایران کا یہ مطالبہ شامل ہے کہ ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر عائد پابندی ختم کر دی جائے۔

دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ کسی بھی جوہری معاہدے کی قرارداد میں ایسے الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران کا جوہری پروگرام غیر قانونی ہے۔

عارضی معاہدہ ویانا کے مقامی وقت کے مطابق پیر کی رات ختم ہو جائے گا لیکن سفارت کاروں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے پہلے معاہدے کو مکمل کر کے اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔

لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا ہونے کی کوئی ضمانت نہیں اور مذاکرات منگل تک بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

اگر ایسا ہوا تو یہ 27 جون سے جاری مذاکرات میں چوتھی مرتبہ توسیع ہو گی۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جب وہاں موجود وزرائے خارجہ سے مذاکرات میں ممکنہ توسیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

اسی بارے میں