اڑیسہ: جادو ٹونے کا شبہ، ایک ہی خاندان کے چھ ارکان قتل

Image caption اڑیسہ میں پچھلے پانچ سالوں میں اس طرح کے واقعات میں 274 افراد قتل ہوئے ہیں

بھارت کی ریاست اڑیسہ کے قبائلی اکثریتی ضلع کیوجھر میں دیہاتیوں نے جادو ٹونا کرنے کے شبہے میں ایک ہی خاندان کے چھ ارکان کو ہلاک کر دیا ہے۔

پیر کو پیش آنے والے اس واقعے میں اس خاندان کے دو ارکان شدید زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں اب ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔

واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے پولیس افسر اجے پرتاپ سوائي نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ تمام ہلاک شدگان کی لاشیں ان کے مکان کے اندر موجود تھیں اور ان کی گردنیں کسی تیزدھار ہتھیار سے کاٹی گئی ہیں۔

اجے سوائي نے یہ بھی بتایا کہ واقعے میں زخمی ہونے والوں کے بیان کی بنیاد پر ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی ملزمان کی تلاش ابھی جاری ہے۔

بھونیشور میں ریاست کے پولیس ڈائریکٹر جنرل سنجیو مارك نے بتایا کہ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے اس کی تحقیقات کرائم برانچ کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

مارك نے کہا، ’ہم نے اسے ’ریڈ فلیگ‘ کیس قرار دیا ہے۔ میں نے معاملے کی تفتیش ڈی ایس پی کے حوالے کی ہے اور ایس پی سے کہا ہے کہ اس کی نگرانی کریں۔ تحقیقات اے ڈی جی کی نگرانی میں ہوگی۔‘

اڑیسہ میں حال ہی میں ہوئے ایک سروے کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں ریاست میں اس طرح کے واقعات میں 274 افراد قتل ہوئے ہیں۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکومت نے دو سال پہلے ’اڑیسہ پروینشن آف وچ ہنٹنگ‘ کا قانون منظور کیا تھا لیکن اس کے باوجود ایسے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

بھارت کے قبائلی علاقوں میں خصوصاً خواتین کو ڈائن یا جادوگرنی قرار دیے جانے کا چلن عام ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح کے حملوں کے پیچھے توہم پرستی اور جہالت کار فرما ہے لیکن بعض اوقات بیواؤں کی جائیداد ہتھیانے کے لیے بھی انھیں اس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے۔

اسی بارے میں