’بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر شہریت کا انتخاب‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption دونوں ممالک اب ان خطوں کا تبادلہ کریں گے اور وہاں کے رہائیشیوں کو انتخاب کا حق حاصل ہوگا کہ وہ کہاں رہیں گے

اس سال مئی میں بھارت کی پارلیمنٹ نے ایک اہم معاہدے کی منظوری دی تھی جس کے تحت دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ملک میں واقع علاقوں کے کنٹرول کے تبادلے کا اختیار دیا گیا تھا۔

واضع رہے کہ بھارت کی سرحد کے اندر واقع 51 علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں بنگلہ دیشی رہتے ہیں جبکہ دوسری جانب بنگلہ دیش کی سرحد کے اندر 111 ایسے مقامات ہیں جہاں بھارتی شہری آباد ہیں۔

نئے معاہدے کے تحت دونوں اطراف سے 50 ہزار کے قریب دیہاتیوں کو یہ انتخاب کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ کہاں رہنا چاہتے ہیں اور کسی ملک کی شہریت اختیار کرنا چاہتے ہیں۔

بنگلہ دیش کے اند واقع بھارتی انکلیوز (بستیوں) میں رہنے والے سرکاری طور پر بھارتی شہری تصور کیے جاتے ہیں جبکہ بھارت کے اندر واقع بنگلہ دیشی بستیوں میں رہنے والے بنگلہ دیشی شہری تصور کیے جاتے ہیں۔

اس ماہ کے اوائل میں حکام نے لوگوں سے یہ پوچھنا شروع کیا تھا کہ علاقوں کے ادل بدل کے بعد وہ کس ملک کی شہریت رکھنا پسند کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق جولائی کے آخر تک دونوں فریق علاقوں کے لین دین کی حتمی فہرست تیار کر لیں گے اور لوگوں کو ان کے پسند کے ملک میں آباد کرنے کے انتظامات بھی رواں ماہ مکمل کر لیے جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کُل 51584 افراد اپنی شہریت کا انتخاب کریں گے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انوارالاسلام نے بنگلہ دیشی شہریت کا انتخاب کیا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بنگلہ دیش میں واقع ایک بھارتی بستی کا نقشہ
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بوبیتا رانی بنگلہ دیش میں واقع ایک بستی میں رہتی ہیں، انھوں نے بھارت جانے کا فیصلہ کیا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سوبیتا رانی اور ان کے خاندان نے بھارتی شہریت کا انتخاب کیا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption لوگوں کا تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان موجود سرحد کے ذریعے ہو گا

اسی بارے میں