چین: سرکاری ٹی وی پر مبینہ دہشت گرد کا اعترافی بیان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سنکیانگ میں حالیہ برسوس میں متعدد حملے اور پر تشدد مظاہرے ہوے ہیں

چین کے سرکاری ٹی وی نے ایک مبینہ دہشت گرد کا انٹرویو نشر کیا ہے جس میں اس نے ملک کے شمالی علاقے ہیبی پر بم حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ سے تعلق رکھنے والے اس شخص نے اعتراف کیا ہے کہ وہ خودکش حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور اس کے لیے اس نے شام اور ترکی میں تربیت حاصل کی تھی۔

ابھی یہ واضع نہیں ہے کہ اس شخص کو کب گرفتار کیا گیا تھا یا اس پر کن الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

چین مبینہ دہشت گردی کے واقعات کے بارے میں معلومات کو سختی سے کنٹرول کرتا ہے جس کی وجہ سے ایسی اطلات کی غیرجانبدارانہ تصدیق کرانا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔

چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں حالیہ برسوس میں متعدد حملے اور پر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں اور پولیس انھیں دہشت گردی کے واقعات کرار دیتی ہے۔ البتہ سنکیانگ سے باہر ایسے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔

سی سی ٹی وی پر نشر ہونے والے اس انٹرویو میں ’آئیکےبائیعر‘ نامی شخص کو جس کا سر منڈا ہوا ہے ، جیل کا لباس پہنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

انٹرویو میں اس شخص کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے مغرب میں واقع شاجیاجوانگ شہر میں ایک شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنانے کے علاوہ لوگوں کو ملک میں دوسرے مقامات پر حملے کرنے کے لیے تربیت دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔

آئیکے بائیعر نے بتایا کہ اس نے بم بنانے کی تربیت شام میں حاصل کی اور اس نے دیگر لوگوں کو متنبہ بھی کیا کہ شام میں حالات بہت ابتر ہیں اور وہ دہشت گردوں کے پروپیگنڈے میں نہ آئیں۔

انٹرویو کے دوران ایک موقعے پر یہ شخص آبدیدہ ہوگیا اور اپنے والدین سے معافی مانگتے ہو کہا کہ ’ میں اپنی والدہ سے کہنا چاہوں گا کہ وہ برائے مہربانی مجھے معاف کر دیں۔‘

شنگائی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سڈورتھ کا کہنا ہے کہ چین میں کسی بھی قسم کی عدالتی کارروائی سے پہلے ہی ملزموں کے اعترافی بیان ٹی وی پر نشر کرنے کی ایک طویل روایت ہے۔

ہمارے نامہ نگار کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری میڈیا پر ملک کی حکمراں کیمونسٹ جماعت کی مکمل گرفت ہے اور حکومت کی جانب سے اس وقت سنکیانگ میں سخت سکیورٹی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں