آپ کے غصےسے ڈر نہیں لگتا، صاحب!

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption کئی بار ملاقاتیں، کئی بار وعدہ۔ پر معاملہ ہے کہ بن ہی نہیں پاتا!

اگر آپ نے سلمان خان اور سوناکشی سنہا کی فلم دبنگ دیکھی تھی تو آپ کو وہ جملہ ضرور یاد ہوگا جب سوناکشی سلمان خان سے کہتی ہیں کہ آپ کے غصے سے ڈر نہیں لگتا صاحب، پیار سے لگتا ہے!

کچھ ایسی ہی نوعیت ہندوستان اور پاکستان کے باہمی رشتوں کی بھی ہوگئی ہے۔ ہر ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے جاری کیے جاتے ہیں، ان میں سفارتکار لفظوں کی جادو گری سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا کوئی ایسا راستہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے وزرا اعظم اپنے اپنے چھپن انچ کے سینے ٹھوک کر کہہ سکیں کہ دیکھو! ہم نے انھیں اپنی شرائط پر بات کرنے کے لیے آخرکار مجبور کر ہی دیا۔ مگر سیاہی خشک ہونے سے پہلے، یا وزرا اعظم کے وطن واپس پہنچنے سے پہلے ہی بات چیت کا امکان ختم اور الزام تراشیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔

لیکن اگر ہر ملاقات کا انجام جدائی ہی ہے تو ملنا اتنا ضروری کیوں ہے؟ جب دونوں وزرا اعظم اگلی مرتبہ کسی بین الاقوامی اجلاس میں اتفاقاً ٹکرائیں تو وہ کیوں بات چیت دوبارہ شروع نہ کرنے پر اتفاق نہیں کرسکتے؟

کیوں یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا کہ ’ک سے شروع ہونے والے لفظ سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل‘ پر بات نہیں ہوگی! جن موضوعات پر کوئی تنازع نہیں ہے پہلے انھیں حل کرنے کی کوشش کی جائے گی؟

لیکن اس کے لیے غیر روایتی انداز میں سوچنے یا ’آؤٹ آف دی باکس تھنکنگ‘ کی ضرورت ہوگی۔ اگر آپ تمام پرانے اعلامیے نکال کر دیکھیں تو اکثر ایسا لگتا ہے کہ بس ملاقات کی جگہ اور وقت، اور وزرا اعظم کے نام بدل دیے گئے ہیں، انجام سمیت باقی سب کچھ وہی پرانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگر ہر ملاقات کا انجام جدائی ہی ہے تو ملنا اتنا ضروری کیوں ہے؟

اگلی ملاقات میں اگر یہ فیصلہ ہو جائے کہ کسی بھی قیمت پر بات چیت شروع نہیں ہوگی، کوئی تنازع حل کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، عوامی رابطوں میں جہاں تک ممکن ہو رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی، ایک دوسرے کے سفارتکاروں کو بغیر کسی ٹھوس وجہ نکالا جائے گا، سرحد پار کرنے والے ہر کبوتر کو فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔۔۔ تو ایسے معاہدہ پر عمل کرنا بھی آسان ہوگا اور آپ کو بھی لگے کہ ارے، دونوں حکومتیں اس مرتبہ پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتری ہیں، یہ سب تو پہلے سے ہی ہو رہا ہے، نہ توقعات بلند ہوں گی اور نہ چکناچور! واقعی آپ کے غصے سے ڈر نہیں لگتا صاحب، پیار سے لگتا ہے!

بس ذرا انتظار

ویسے بھی تعلقات بہتر کرنے کی جلدی کیا ہے۔ ہر کام اپنے وقت سے ہی ہوتا ہے۔ بی جے پی کے صدر اور ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی معتمد امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک میں عوام کو جن اچھے دنوں کا انتظار ہے ان کے آنے میں پچیس سال لگ سکتے ہیں!

بعد میں انھوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کو دنیا کا سب سے خوشحال ملک بنانے کی بات کر رہے تھے، جس کے لیے ضروری ہے کہ بی جی پی ہر سطح پر لگاتار بچیس برسوں تک اقتدار میں رہے!

نہ نو من تیل ہوگا، نہ رادھا ناچے گی! اگر بی جے پی کو لگاتار پچیس برس حکومت کرنی ہے تو پارلیمان کی مدت بڑھانی ہوگی، لیکن اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی، اس کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمان کا کام کاج چلے، لیکن پارلیمان چلنے کے لیے ضروری ہے کہ بی جے پی حزب اختلاف کے مطالبات تسلیم کر لے۔ حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ بی جے پی کے دو وزرا اعلیٰ اور وزیر خارجہ کو بدعنوانی اور اپنے عہدے کے بے جا استعمال کی روشنی میں مستعفی ہو جانا چاہیے۔ بی جے پی اس کے لیے تیار نہیں ہے، لہذا یہ مان کر چلیے کہ پچیس سال میں تو یہ کام ہونے والا نہیں ہے۔

آپ چاہیں تو انتظار جاری رکھ سکتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جسے سرحد کے دونوں طرف بہت سے لوگ باہمی رشتوں میں بہتری کا انتظار کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں