سینکڑوں چینی فن پاروں کا نگران ہی چور نکلا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فائن آرٹ اکیڈمی کے مہتمم نے وہاں موجود 125 فن پاروں کو 60 لاکھ ڈالر سے زائد میں فروخت کیا

چین میں ایک شہری نے ملک کی ایک جامعہ سے 140 سے زیادہ فن پاروں کی چوری اور ان کی جگہ نقلی فن پارے آویزاں کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

ملک کے جنوبی صوبے گوانگ زو کی فائن آرٹ اکیڈمی کے مہتمم 57 سالہ ژیاو ژین نے اکیڈیمی میں موجود 125 فن پاروں کو 60 لاکھ ڈالر سے زائد رقم میں فروخت کیا ہے۔

انھوں نے فن پارے چوری کر کے بیچنے کا اعتراف تو کیا لیکن اپنے دفاع میں عدالت میں دیے گئے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آرٹ اکیڈمی کے سٹور روم میں پہلے سے ہی جعلی فن پارے موجود تھے۔

ژیاو ژین کو اُن کے جرم پر ابھی سزا نہیں سنائی گئی۔

ان کے پاس یونیورسٹی کے سٹور روم کی چابی تھی جہاں انھوں نے 2004 کے بعد دو سال تک معروف فنکاروں کی پینٹنگز کی نقل تیار کیں۔

ژیاو ژین نے عدالت میں اپنے بیان میں بتایا ہے کہ انھیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ فن پاروں کی جو نقول انھوں نے تیار کی تھیں وہ بھی کسی نے چوری کر کے ان کی جگہ اور نقول رکھ دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح یونیورسٹی کی لائبریری سے طالب علم اور اساتذہ کتابیں لے سکتے ہیں اسی طرح ان کی رسائی سٹور روم میں موجود پینٹنگز تک بھی ہوتی ہے۔

انھوں نے سنہ 2004 سے لے کر 2011 کے درمیان 125 فن پاروں کو فروخت کیا اور حاصل شدہ رقم سے مزید پینٹنگز خریدیں اور جائیداد بھی بنائی۔

وکیلِ استغاثہ کے مطابق ژیاو ژین نے مزید 18 پینٹنگز چوری کیں جن کی قیمت 70 لاکھ یوان کے برابر تھیں۔

ان چوری شدہ فن پاروں میں 17ویں صدی کے معروف پینٹر اور خطاط زوا کے فن پارے بھی موجود تھے۔

ژیاو ژین نے 2010 میں اس وقت یونیورسٹی چھوڑ دی تھی جب ان پر کرپشن کے الزامات ثابت ہوئے تھے۔

انھوں نے اپنے اس اقدم پر معافی مانگی ہے تاہم انھوں نے اس معاملے سے متعلق کچھ تفصیلات وکیلِ استغاثہ تک پہنچائی ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2012 میں ژنہوا نیوز ایجنسی نے بھی فن پاروں کی جعلی نقول بنائے جانے کے مسئلے کو اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ یہ کام ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

اسی بارے میں