کیا رویندر 30 بچوں کا قاتل ہو سکتا ہے؟

Image caption رویندر نےگرفتاری کے بعد سے جنسی تشدد اور قتل کی درجنوں واقعات کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو ’جرم کے اوقات اور جگہوں کی تفصیل‘ بتائی ہے

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کی پولیس اس بات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ کہیں حالیہ دنوں میں ایک چھ سالہ بچی کے قتل کے سلسلے میں گرفتار ہونے والا شخص ممکنہ طور پر ایسے 30 جرائم میں ملوث تو نہیں۔

نئی دہلی میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کے مطابق اس شخص کے خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو پھنسایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ رویندر نامی اس شخص کو گذشتہ ہفتے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس کے گھر سے صرف 50 قدم کے فاصلے پر ایک ویران عمارت سے ایک چھ سالہ بچی کی لاش ملی تھی۔ رویندر نےگرفتاری کے بعد سے جنسی تشدد اور قتل کی درجنوں واقعات کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو ’جرم کے اوقات اور جگہوں کی تفصیل‘ بتائی ہے۔

مغربی دہلی کے علاقے روہنی کے بیگم پور پولیس سٹیشن میں رویندر کو جب بی بی سی سے بات کرنے کے لیے لایا گیا تو اس کے ہاتھ میں ہتھکڑی تھی اور ایک پولیس والے نے اسے پکڑ رکھا تھا۔ وہ میرے سامنے زمین پر بیٹھ گیا اور بتانے لگا کہ کس طرح اس نے چھ سالہ بچی کو اپنا شکار بنایا۔

Image caption مغربی دہلی کے علاقے روہنی کے بےگمپر پولیس سٹیشن میں رویندر کو جب مجھ سے بات کرنے کے لیے لایا گیا تو اس کے ہاتھ میں ہتکڑی تھی

اپنے گناہ کا اعتراف کرنے والے اس مجرم کا کہنا ہے کہ اس نے اتر پردیش، ہریانہ اور نئی دہلی میں سنہ 2008 سے لے کر اب تک ’ 30 بچوں سے جنسی زیادتی‘ کرنے کے بعد انھیں قتل کیا۔

رویندر کو گذشتہ سال بھی اسی اسی طرح کے ایک جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر ایک چھ سال کے لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی اور اس کا گلا کاٹ کر قتل کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس نے جیل میں ایک سال گزارا تاہم اسے دو ماہ بعد چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ بچہ بچ گیا تھا اور وہ رویندر کو پہچان نہیں سکا تھا۔

رویندر ان غریب بچوں کو اپنا شکار بناتا تھا جو فٹ پاتھ پر سوتے تھے اور جن کے ماں باپ ان کے لیے مشکل سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کر پاتے تھے۔

Image caption اس مقدمے کے اہم تفتیش کار جگمدر سنگھ ہیں

میں نے اس سے پوچھا کہ اسے کبھی اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا؟

اس نے جواب دیا ’ہاں، جس دن میں کسی جرم کو انجام دیتا تھا اس کے اگلے دن میں سوچتا تھا کہ میں نے جو کیا غلط تھا اور میں یہ سب چھوڑ دوں گا لیکن جیسے ہی میں دوبارہ سے شراب پیتا تھا، اپنا ہوش کھو دیتا تھا۔‘

پولیس کے ڈپٹی كمشنر وكرمجيت سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’ہم ان انکشافات سے بہت حیران ہیں۔ وہ ایک نفسیاتی طور پر متاثرہ شخص ہے۔‘

ان 30 معاملات جن میں رویندر کا دعویٰ ہے کہ اس کا ہاتھ تھا، پولیس نے ایک درجن مقدمات کی تصدیق کرنے کی بات کہی ہے۔

اس مقدمے کے اہم تفتیش کار جگمدر سنگھ کا کہنا ہے ’ہم اس کے دوسرے دعووں کی تحقیقات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

Image caption قتل کی گئی بچی کے والد سنتوش کمار بیل گاڑی چلاتے ہیں

لیکن کیا صرف 23 سال کا آدمی واقعی میں سیریل کلر ہے جیسا کہ وہ دعوی کرتا ہے؟

اس کی بتائی گئی باتیں ریہرسل کی گئی لگتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو یا پھر ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کئی بار کہنے کی وجہ سے ایسا لگتا ہو۔

پولیس کی کہانی بھی بہت سارے سوالات کو جنم دیتی ہے۔ گرفتاری کے بعد رویندر نے 15 قتل کرنے کی بات کہی جو اب 30 ہو گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ رویندر کے دماغی طور پر بیمار ہونے کے امکان پر ذہنی امراض کے ماہر سے مشورہ لے رہی ہے لیکن رویندر کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو بااثر اور دولت مند افراد نے پھنسایا ہے۔

Image caption رویندر کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو با اثر اور دولت مند افراد نے پھنسایا ہے

ان کا کہنا ہے کہ پولیس کے تشدد کی وجہ سے ان کا بیٹا ہر رور ایک نئے جرم کا اعتراف کر رہا ہے۔

ان کے والد برھماند نے روتے ہوئے بتایا ’گرفتاری کے دو دن بعد جب میں اس سے ملنے گیا تو رویندر نے مجھے بتایا کہ وہ وہی کچھ کہے گا جو پولیس چاہتی ہے کیونکہ اگر وہ ان جرائم کو قبول نہیں کرتا تو پولیس اس پر تشدد کرے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ اس وجہ سے اپنا دماغی توازن کھو چکا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’رویندر کو چار دن اور دیجیے اور دیکھیے گا کہ وہ 200 قتل کا اعتراف کر لے گا۔‘

برھماند کا کہنا ہے کہ اگر معاملے کی تفیش سی بی آئی کرتی ہے تو ان کا بیٹا بے گناہ ثابت ہوگا۔

Image caption مجھے اس کا مردہ جسم بھی نہیں دیکھنے دیا گیا۔ سب نے کہا کہ آپ بے ہوش ہو جاؤ گی: پشپا دیوی

جگمدر سنگھ نے پولیس کی جانب سے رویندر پر تشدد سے انکار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ’ہم نے جب سے اسے گرفتار کیا ہے اس کے بعد سے اسے ایک تھپڑ بھی نہیں مارا ہے۔‘

دوسری جانب قتل کی گئی چھ سال کی بچی کے والدین غصے میں ہیں اور وہ رویندر کی پھانسی چاہتے ہیں۔

بچی کے والد سنتوش کمار کا کہنا ہے ’ہمارے گھر میں ٹوائلٹ نہیں ہے اسی لیے ہماری بچی کھیت میں گئی تھی۔ ہم اس کے واپس آنے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ ناشتہ کر سکول جائے لیکن وہ کبھی واپس نہیں آئی۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہمارے دو بیٹے اور بھی ہیں مگر وہ ہماری بیٹی اور سب سے چھوٹی اولاد تھی۔

بچی کی ماں پشپا دیوی کا کہنا ہے ’مجھے اس کا مردہ جسم بھی نہیں دیکھنے دیا گیا۔ سب نے کہا کہ آپ بے ہوش ہو جاؤ گی۔‘

پشپا نے روتے ہوئے بتایا ’وہ ایک خوش رہنے والی لڑکی تھی۔ اس نے حال ہی میں چاندی کی پازیب مانگی تھی۔ اس نے کہا تھا کہ اگر میں نے اسے پازیب لا کر نہیں دی تو وہ دور چلی جائے گی اور کبھی واپس نہیں آئے گی۔ اب وہ ہمیشہ کے لیے چلی گئی ہے۔‘

اسی بارے میں