یعقوب میمن کی پھانسی میں جلدی کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یعقوب میمن نے اپنی پھانسی رکوانے کےلیے بعض تکنیکی بنیادوں پر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے جس کی سماعت پیر کو ہونی ہے

بھارت میں ان دنوں سنہ 1993 کے ممبئی بم دھاکوں کےقصوروار یعقوب میمن کی متوقع پھانسی پر بحث چھڑي ہوئی ہے ۔‎سپریم کورٹ مئی میں میمن کی پھانسی کی توثیق کر چکا ہےاور ممبئی کی سسیشن عدالت نے مئی میں ہی یعقوب ممین کے خلاف ڈیتھ وارنٹ جاری کر دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق میمن کو 30جولائی کو بھانسی دی جا سکتی ہے۔ ناگپور جیل میں انھیں پھانسی دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق جیل کے احاطے میں صحافیوں کی بریفنگ کے لیے بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔

یعقوب میمن نے اپنی پھانسی رکوانے کےلیے بعض تکنیکی بنیادوں پر سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کی ہے جس کی سماعت پیر کو ہونی ہے۔

اُن کی رحم کی اپیل صدر جمہوریہ پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔اس دوران ملک کےکئی سرکردہ ججوں، ماہرین قانون اورادب و ثقاقت سے وابستہ 21 اہم افراد نے صدر مملکت سے اپیل کی ہے کہ وہ یعقوب میمن کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیں۔

درخواست گزاروں نے سات صفحات کےاپنے خط میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی کے قاتل اور سنہ 1993 کےدلی دھماکوں کے مجرموں کی موت کی سزا حال ہی میں عمر قید میں تبدیل کی ہے۔

ان معاملوں میں رحم کی اپیل کےسلسلے میں بھی کئی برس لگے اس کےبرعکس یعقوب میمن کی رحم کی اپیل فوراً مسترد کردی گئی۔

درخواست کنندگان میں جسٹس پی بی ساونت ، جسٹس پنا چند جین ، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کےرہنما سیتا رام یچوری ، رکن پارلیمان اور ماہر قانو مجید میمن اور تھیٹر آرٹسٹ ایم کے رینا شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست گزاروں نے سات صفحات کےاپنے خط میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے راجیو گاندھی کے قاتل اور سنہ 1993 کےدلی دھماکوں کے مجرموں کی موت کی سزا حال ہی میں عمر قید میں تبدیل کی ہے

انھوں نے صدر مملکت سے درخواست کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ یعقوب میمن کو پھانسی سے بچا لیں کیونکہ اسے یہ سزا ایک ایسے جرم کی دی جا رہی ہے جس کا ارتکاب کسی اورنے کیا تھا۔

ملک کی ان اہم شخصیات نے لکھا ہے کہ خون بہانے اور انسانوں کی قربانی دینے سے ملک محفوظ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ہمیں اخلاقی طور پر پست کر دے گا۔

انھوں نے لکھا ہے کہ یعقوب کی موت کی سزا کو عمر قید میں بدل دینے سے لوگوں تک یہ پیغام جائےگا کہ یہ ملک دہشت گردی کو قطعی برداشت نہیں کرے گا ساتھ ہی یہ رحم اور انصاف کی قدروں اور اصولوں کے اطلاق میں بھی کسی کےساتھ کوئی تفریق نہیں کرتا۔

بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے ایک سابق سربراہ کے مطابق یعقوب میمن ان کےوالد ، ان کے دو بھائیوں ، اہلیہ اور بھابھی نے خود کو حکام کے حوالے کیا تھا ۔بعض اطلاعات کے مطابق میمن فیملی 1993 میں ممبئی بم دھماکوں سے پہلے عید منانے کے لیے دوبئی میں جمع ہوئی تھی۔

دھماکے کے بعد جب انھیں معلوم ہوا کہ ان دھماکوں میں ان کےبھائی ٹائیگر میمن کے ساتھ ساتھ ان کا نام بھی لیا جا رہا ہے تو وہ مبینہ طورپر ٹائیگر میمن کےساتھ پاکستان چلے گئے۔

بعض اطلاعات کےمطابق یعقوب میمن اوران کے گھر والوں کو یہ تکلیف تھی کہ بقول ان کے بم دھماکوں میں ملوث نہ ہونے کے باوجود بھارت میں انھیں غدار اور دہشت گرد قراردیا جا رہا ہے۔ انھوں نے یہ طے کیا کہ وہ بھارت واپس جا کر اپنی بے گناہی ثابت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے لیکن اس قتل عام کے لیے کئی تحقیقاتی کمیٹیوں اور کمیشنوں کے باوجود آج تک کسی کو بھی سزا نہ ہوئی

ممبئی میں واقع ایک صحافی نے 2007 میں ایک مضمون میں لکھا تھا کہ انھیں پورا یقین تھا کہ وہ بے قصور ہیں اس لیے انھیں الزامات سے بری کردیا جائے گا۔ اس سے زیادہ انھیں اس بات پر بھروسہ تھا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے اوران کےحقوق کا تحفظ کیا جائے گا، حکومت ان کےساتھ تفریق نہیں کرے گی اور ان کےساتھ انصاف ہوگا۔ لیکن یعقوب اور خود کو حکام کے حوالے کرنے والے ان کے سبھی رشتےداروں کے سارے تصورات غلط ثابت ہوئے۔

یعقوب میمن کی زندگی اور موت کا فیصلہ پیر کو سپریم کورٹ میں ہو جائے گا ۔ ہوسکتا ہےانھیں پھانسی ہو جائے۔

میمن فیملی کے ساتھ انصاف ہوا یا ان کے ساتھ تفریق برتی گئی؟ 22 برس جیل میں گزارنے کے بعد یہ بحث پہلے ہی بے معنی ہوچکی ہے۔

سنہ 1993 کے بم دھماکوں میں 257 افراد ہلا ک ہوئے تھے ۔ اس وقت تک یہ دہشت گردی کاغالباً پوری دنیا میں سب سےسنگین واقعہ تھا۔

یہ دھماکے مبینہ طور پر بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں ہونے والے خون ریز فسادات کے جواب میں ہوئے تھے۔

ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے لیکن اس قتل عام کے لیے کئی تحقیقاتی کمیٹیوں اور کمیشنوں کے باوجود آج تک کسی کو بھی سزا نہ ہوئی۔

بھارتی جمہوریت ممبئی کےقتل عام کو چاہے تو فراموش کر دے لیکن ملک کے مسلمانوں کے ذہن میں ممبئی فسادات کے خوفناک مناظر اس سوالیہ نشان کےساتھ نقش رہیں گے کہ کیا بھارت جمہوریت میں انصاف کے دو پیمانے ہیں؟

اسی بارے میں