گاؤں والوں کے لیے پہاڑ کاٹ کر راستہ بنا دیا

تصویر کے کاپی رائٹ NIRAJ SAHAY
Image caption رام چندر داس نے 15 برس کی سخت محنت سے پہاڑ کاٹ کر 10 میٹر لمبی اور چار میٹر چوڑی سڑک بنائی

معاشرے میں جب کوئی انسان اپنے جنون اور لگاؤ سے کوئی مثال قائم کرتا ہے تو اس کی راہ پر چلنے والے دوسرے افراد بھی سامنے آتے ہیں۔

بھارتی ریاست بہار کے ’ماؤنٹین مین‘ کے نام سے معروف دشرتھ مانجھی کی راہ اپنانے والے ایک اور شخص سامنے آئے ہیں جنھوں نے پہاڑ کھود کر اپنے گاؤں کے لیے سڑک بنائی۔

ریاستی دارالحکومت پٹنہ سے تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ضلع گیا کے گاؤں كیوٹي کے باشندے رام چندر داس نے 15 برس کی سخت محنت سے پہاڑ کاٹ کر 10 میٹر لمبی اور چار میٹر چوڑی سڑک بنائی ہے۔

پچاس برس کے رام چندر یادو نے كبير پنتھ یعنی صوفی شاعر کبیر کے نظریات کو اپنا لیا ہے اور اب وہ رام چندر یادو کے بجائے رام چندر داس کہلاتے ہیں۔

بہار کی ہی ایک بہت معروف شخصیت دشرتھ مانجھی نے بھی 22 برس کی سخت محنت کے بعد پہاڑ کاٹ کر اپنے گاؤں کے لیے راستہ نکالا تھا۔

رام چندر بتاتے ہیں ’یہاں راستہ تو تھا نہیں۔ دشرتھ بابا(دشرتھ مانجھی) سے ترغیب پا کر سنہ 1993 میں ہم نے بھی پہاڑ کاٹنے کا کام شروع کیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Niraj Sahay
Image caption راستہ بن جانے سے قریبی دیہات کا فاصلہ سات کلومیٹر سے کم ہو کر دو سے ڈھائی کلومیٹر تک رہ گیا ہے

رام چندر کہتے ہیں کہ وہ ہر روز پانچ سے دس من پتھر پھوڑتےتھے۔ پھر حوصلہ بڑھتا گیا اور یہ کام انہوں نے سنہ 2008 میں مکمل کر لیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں ’یہ راستہ بن جانے سے اس علاقے کے كیوٹي، تترا، گنوكھر، اتیديا جیسے دیہات کا فاصلہ سات کلومیٹر سے کم ہو کر دو سے ڈھائی کلومیٹر تک رہ گیا ہے۔‘

اس کے علاوہ اب ان کے گاؤں تک کوئی بھی سواری آ جاتی ہے۔

داس کہتے ہیں ’گاؤں والے کہا کرتے تھے کہ پہلے ٹرک چلاتےتھے، اب یہ کام کیوں کر رہے ہو۔ لیکن آج میری بنائی ہوئی اس سڑک کو سبھی استعمال کر رہے ہیں۔‘

یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ دوسرے دشرتھ مانجھی ہیں، رام چندر نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا ’سب کچھ انھیں سے ملی ترغیب کا پھل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ NIRAJ SAHAY
Image caption رام چندر خوش ہیں کہ سب ان کی بنائی ہوئی اس سڑک کو استعمال کر رہے ہیں

رام چندر کہتے ہیں کہ وہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے ہر روز کھیت میں مزدوری بھی کرتے ہیں۔

اس گاؤں کی چنتا دیوی کہتی ہیں ’سڑک بن جانے سے گھر کی بہو، بیٹیوں کو پہاڑ کو پار کر کے سواری لینے نہیں جانا پڑتا بلکہ اب تو گھر تک گاڑی آ جاتی ہے۔‘

لیکن رام چندر داس نے جو کام کر دیا ہے وہ تو اپنی جگہ لیکن اس کی ترقی کے حوالے سے مستقبل کا کوئی بلیو پرنٹس نہ تو گاؤں والوں نے تیار کیا ہے اورنہ ہی حکومت کے پاس اس سے آگے کا کوئی منصوبہ ہے۔