بھارتی صدر نے یعقوب میمن کی رحم کی اپیل مسترد کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یعقوب میمن کو 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی

بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق ملک کے صدر پرنب مکھرجی نے ممبئی بم دھماکوں کے مقدمے میں سزائے موت کے منتظر مجرم یعقوب میمن کی رحم کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

بدھ کی صبح بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے خلاف یعقوب میمن کی اپیل مسترد کیے جانے کے بعد ان کی پھانسی رکوانے کے لیے صرف یہی ایک راستہ بچا تھا۔

رحم کی اپیل کے مسترد ہونے کے بعد اب انھیں جمعرات کو ان کی 54ویں سالگرہ کے دن پھانسی دے دی جائے گی۔

خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارتی صدر نے یعقوب میمن کی اپیل مسترد کی ہے۔ وہ اس سے قبل 2013 میں کی گئی اپیل بھی رد کر چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کے مطابق صدر کی جانب سے اس فیصلے سے قبل مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ان سے ملاقات کی تھی جو دو گھنٹے تک جاری رہی۔

ٹاڈا کورٹ نے 30 جولائی کو پھانسی دیے جانے کے لیے یعقوب کے ڈیتھ وارنٹ جاری کیے تھے۔

یعقوب نے اس وارنٹ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا تھا لیکن سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے ان کی درخواست رد کر دی تھی۔

جس کے بعد انھوں نے دوبارہ صدر کے سامنے رحم کی درخواست کی جسے مسترد کر دیا گیا ہے۔

بہت سی تنظیموں اور اہم شخصیات نے صدر پرنب مکھرجی سے یعقوب کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی۔

یعقوب میمن کو 1993 کے ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک اور تقریباً سات سو زخمی ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بہت سی تنظیموں اور اہم شخصیات نے صدر پرنب مکھرجی سے یعقوب کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کی اپیل کی تھی

اس مقدمے میں یعقوب میمن کے بڑے بھائی ٹائیگر میمن اصل ملزم ہیں اور ان کے بارے میں بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ انڈر ورلڈ کے سرغنہ داؤد ابراہیم کے ساتھ پاکستان میں ہیں۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق جب سے یعقوب میمن کی پھانسی کی تاریخ کا اعلان کیا گیا، بھارت میں اس بات پر شدید بحث چھڑ گئی ہے کہ انھیں ایک ایسے جرم کے لیے سزا دی جا رہی ہے جس میں اصل کردار ان کے بڑے بھائی ٹائیگر میمن نے ادا کیا تھا اور یعقوب میمن الزامات کا سامنا کرنے کے لیے خود اپنی مرضی سے بھارت واپس آئے تھے۔

سزا کی مخالفت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں واپس لانے کے لیے ان سے کچھ وعدے کیے گئے تھے جن سے حکومت یا تفتیشی ایجنسیاں بعد میں پیچھے ہٹ گئیں۔

یعقوب میمن کو واپس لانے کی کارروائی سے وابستہ را اور سی بی آئی کے افسران نے بھی یہ انکشاف کیا ہے کہ یعقوب میمن اپنی مرضی سے واپس آئے تھے اور انھوں نے ان دھماکوں کی سازش کا پردہ فاش کرنے میں تفتیش کاروں کی مدد کی تھی لیکن ان سے نرمی کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا۔

اس کیس میں 11 مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی لیکن سپریم کورٹ نے 10 دیگر افراد کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔

اسی بارے میں