لیبیا میں اغوا ہونے والے چار بھارتیوں میں سے دو رہا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

بھارت کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا میں اغوا کیے جانے والے چار بھارتی شہریوں میں سے دو کی رہائی عمل میں آ گئی ہے اور انھیں سرت واپس لایا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ باقی دو ہندوستانیوں کی رہائی کی کوششیں جاری ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے لکشمی کانت اور وجے کمار نامی بھارتیوں کی رہائی پر خوشی ظاہر کی ہے.

حکام کا کہنا ہے کہ جمعرات کو سرت نامی شہر کے قریب سے اغوا کیے گئے چاروں بھارتی وہاں کی مقامی یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔

سرت کا علاقہ لیبیا کے سابق کے آمر معمر قذافی کا آبائی علاقہ ہے جو اب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا گڑھ بن گیا ہے۔

اکتوبر سنہ 2011 میں معمر قذافی کی ہلاکت کے بعد سے لیبیا میں شورش بڑھ گئی ہے اور مختلف گروپ اختیار حاصل کرنے کے لیے برسرے پیکار ہیں۔

اغوا ہونے والے بھارتی ٹیچرز کا تعلق جنوبی ریاست کرناٹک اور آندھرا پردیش سے ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’بھارتی شہری طرابلس اور تیونس سے واپس بھارت آ رہے تھے کہ انھیں سرت شہر سے 50 کلومیٹر دور چیک پوسٹ پر روکا گیا۔‘

ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ انھیں کس گروہ نے اغوا کیا ہے لیکن ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مغویوں کو دوبارہ سرت شہر لایا گیا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم بھارتی شہریوں کے خاندانوں سے مکمل رابطے میں ہیں اور چاروں بھارتیوں کی بحفاظت واپسی کو ممکن بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘

رواں سال مئی میں سرت کے شہر پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا قبضہ ہو گیا تھا۔

اس سے قبل گذشتہ سال جولائی میں 65 بھارتی نرسیں لیبیا میں جاری لڑائی میں پھنس گئی تھیں اور اُن کی محفوظ واپسی اگست میں ممکن ہو سکی تھی۔

جون 2014 میں تعمیراتی شعبے میں کام کرنے والا 40 بھارتی شہری عراق کے شہر موصل میں اغوا ہوئے تھے لیکن تاحال اُن کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

اسی بارے میں