بھارتی حکومت اور ناگا باغیوں کے درمیان امن معاہدہ طے پاگیا

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ 60 سال سے بھارت کی حکومت کے خلاف لڑائی کر رہی ہے

بھارت کی حکومت نے ملک میں طویل عرصے سے جاری علیحدگی پسند تحریکوں میں سے ایک ناگا آزادی کی مہم میں سرگرم ایک تنظیم کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے حکومت اور نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ کے درمیان اس معاہدے کو تاریخی قرار دیا ہے۔

بھارت کی مشرقی ریاست ناگالینڈ میں باغی بیس لاکھ ناگا قبائلیوں کے لیے آزادی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگا لینڈ 60 سال سے بھارت کی حکومت کے خلاف لڑائی کر رہی ہے۔

پیر کے روز دیلی میں وزیراعظم کے دفتر پر امن معاہدے پر دستخط ہونے کے موقعے پر وزیراعظم مودی نے ناگا قبائلیوں کی جانب سے امن کی کوششوں کو سراہا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک کی ایک پرانی ترین علیحدگی کی تحریک اب حل ہوگئی ہے اور یہ دیگر گروہوں کے لیے بھی اشارہ ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Neelima Vallangi
Image caption ناگا قبائلی افراد زیادہ تر ریاست ناگالینڈ میں بستے ہیں تاہم ان کی کچھ آبادی ریاست آسام، مانیپور اور ارونچل پردیش میں بھی پائی جاتی ہے

اس سے قبل نریندر مودی کہہ چکے ہیں کہ بھارت کے شمال مشرقی حصے کی ترقی ان کی حکومت کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔

باغی گروہ کی نمائندگی تھیونگالنگ موئواہ نے کی۔ مان معاہدے کی شرائط ابھی منظرِ عام پر نہیں لائی گئیں۔

ناگا قبائلی افراد زیادہ تر ریاست ناگالینڈ میں بستے ہیں تاہم ان کی کچھ آبادی ریاست آسام، مانیپور اور ارونچل پردیش میں بھی پائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں