طالبان کے نئے امیر کے ساتھ چند لمحے

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

سنہ 1999 میں دسمبر کی ایک سرد دوپہر کو قندہار کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے برآمدے میں دھوپ سینکنے کوئی دو درجن صحافی بیٹھے تھے۔

ان کی توجہ کا مرکز کوئی 300 گز دور انڈین ایئر لائنز کا ایک مسافر طیارہ تھا۔ میں بھی ان صحافیوں میں شامل تھا جو دن رات طیارے کے اردگرد ہونے والی سرگرمیوں کو بی بی سی کے مختلف چینلوں کے لیے رپورٹ کرتا رہتا تھا۔

دنیا بھر سے آئے ہوئے یہ صحافی طیارے اور اس میں سوار مسافروں میں دلچپسی لے رہے تھے لیکن اس بڑے ہوائی اڈے پر تعینات طالبان کے لیے یہ بھانت بھانت کے صحافی اور ان کے کیمرے و دیگر آلات انتہائی دلچپسی کا سامان تھے۔ صحافی بھی دن رات پل پل کی تصاویر اور خبریں دنیا بھر ارسال کرتے رہتے تھے۔

ایک دن طالبان کی محبوب گاڑی ڈبل کیبن ہمارے قریب آ کر رک گئی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ایک قدرے تنومند شخص بیٹھا تھا۔ اس کی گاڑی طالبان شکل و صورت کے لوگوں سےکھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔ اگلی نشت پر بیٹھے ایک طالب نے آ گے بڑھ کر مجھے اپنی جانب بلایا۔

گاڑی والے شاید مجھے جانتے تھے لہٰذا سلام دعا کے بعد ڈرائیونگ سیٹ میں موجود شخص کا تعارف پہلے کرواتے ہوئے کہا کہ یہ قندھار کے کور کمانڈر ملا اختر منصور ہیں۔

پہلی نظر میں وہ ہشاش بشاش شخص دکھائی دیے۔ سفید لباس میں ملبوس سیاہ پگڑی اور داڑھی والے یہ کمانڈر کہنے لگے کہ وہ ’بی بی سی پشتو اور اردو بڑی باقاعدگی اور غور سے سنتے ہیں۔‘

خیرسگالی کے ابتدائی جملوں کے تبادلے کے بعد بھارتی ہائی جیکنگ سے متعلق گفتگو ہوئی لیکن اس تمام بات چیت کے دوران وہ گاڑی سے نیچے نہیں اترے۔

گفتگو سے تمام صورت حال پر ان کی قریبی نظر واضح ہوتی تھی۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ کسی چیز کی ضرورت ہے تو بتائیں۔ وہاں دستیاب ہی کیا تھا لیکن میں نے کچھ نہ کہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ آگے نکل گئے۔

قندھار کے ہوائی اڈے پر قیام کے دوران وہ ایک آدھ مرتبہ دوبارہ بھی نظر آئے لیکن اپنی انتظامی سرگرمیوں میں مصروف تھے لہٰذا زیادہ بات زیادہ ہو سکی۔

یہ کسے معلوم تھا کہ اس وقت ایک عام کمانڈر آئندہ چل کر طالبان تحریک کا سربراہ بن جائے گا، ورنہ ان کے ساتھ تفصیل سے گفتگو کرتے، ان کے خیالات اور سوچ جاننے کی کوشش کرتے۔

میں نے ایوانِ اقتدار کے اعلیٰ ترین حکام سے ملاقاتوں کی بجائے ہمیشہ ’آن دی گراؤنڈ‘ عام لوگوں کی کہانیاں لوگوں تک پہنچائیں۔ لہٰذا جن کے بارے میں معلوم تھا ان سے بھی کبھی ملنے کی کوشش نہ کی۔ کئی مرتبہ قندہار جانے کا موقع ملا، لوگوں نے ملا عمر کا دفتر اور رہائش گاہیں بھی دکھائیں لیکن کبھی دل میں ان سے ملنے کی خواہش نہیں جاگی۔

ملا اختر منصور نے جوانی پشاور کے قریب جلوزئی کیمپ میں گزاری۔ وہ روسیوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا حصہ رہے اور حرکت اسلامی میں شامل ہوئے۔ طالبان تحریک سنہ 1994 میں شروع ہوئی لیکن وہ ایک سال بعد دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس میں شامل ہوئے۔

ملا اختر منصور کبھی طالبان کے اعلیٰ ترین ممکنہ سربراہان کی فہرست میں نہیں رہے۔ سینئیر افغان صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’ملا داد اللہ اور ملا عثمانی کی ہلاکتوں اور ملا برادر اور ملا عبید اللہ کی پاکستان کے ہاتھوں گرفتاریوں نے انھیں اس مقام تک پہنچنے میں مدد دی۔‘

گذشتہ دنوں جب طالبان امیر ملا محمد عمر کی موت کے بعد ملا اختر منصور کی تاج پوشی کے بارے میں معلوم ہوا تو سنہ 1999 فوری طور پر یاد آیا۔ کسی کے کہنے سے پہلے کہ میں ان سے مل چکا ہوں اس بات کا انتظار کیا کہ ان کی تصویر پہلے دیکھوں گا اس کی تصدیق کے بعد کہ یہ وہی اختر منصور ہیں کچھ بات کروں گا۔ اب کوئی شک نہیں رہا یہ وہی ملا اختر منصور ہیں۔

اسی بارے میں