کنگ خان کی سزا معاف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تین سال پہلے وانکھیڑے سٹیڈیم میں شاہ رخ خان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز کے ایک میچ کے بعد گراؤنڈ سٹاف کےایک رکن سے ان کی توتو میں میں ہوگئی تھی

شاہ رخ خان بھلے ہی بالی وڈ کے بے تاج بادشاہ ہوں لیکن شہر کے کچھ علاقے ایسے بھی تھے جہاں برسوں سے ان کا داخلہ بند تھا۔

تین سال پہلے، وانکھیڑے سٹیڈیم میں ان کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے ایک میچ کے بعد گراؤنڈ سٹاف کےایک رکن سے ان کی توتو میں میں ہوگئی تھی۔

کسی گزرے ہوئے زمانے میں عملے کی کبھی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ بادشاہ کے سامنے زبان بھی کھولتا، اگر یہ گستاخی ہو بھی جاتی تو گردن ماری جاتی۔ لیکن اب بادشاہت ختم ہو چکی ہے، راجہ اور رنک سب برابر ہیں، لہٰذا وانکھیڑے کے منتظمین نے میدان میں شاہ رخ خان کے داخلے پر پانچ سال کے لیے پابندی لگا دی۔

شاہ رخ کی ٹیم وہاں کھیلتی رہی، لاکھوں لوگ میچ دیکھنے جاتے رہے لیکن کنگ خان کو ٹی وی سکرین سے کام چلانا پڑا۔

اب شاید اچھے سلوک کی وجہ سے ان کی سزا معاف کر دی گئی ہے، کچھ اسی انداز میں جیسے بھارت اور پاکستان جذبہ خیر سگالی کے طور پر وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو چھوڑنے کا اعلان کرتے رہتے ہیں۔ یہ بات اور ہے کہ انھیں پکڑا ہی اس لیے جاتا ہے کہ جذبہ خیرسگالی کے طور پر چھوڑا جاسکے۔

یہ اعلان یومِ آزادی سے کچھ دن پہلے کیا گیا ہے، کچھ اسی طرح جیسے ہرسال ریاستی حکومتیں یومِ آزادی سے پہلے چھوٹے موٹے قیدیوں کو رہا کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رام گوپال ورما فلم ساز اور ہدایت کار ہیں

بہرحال، اب شاہ رخ خان مکمل آزادی کے ساتھ میچ دیکھنے جا سکیں گے۔ لیکن یہ آزادی ابھی سب کو نہیں ملی ہے۔ بھارت کی شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے گورنر کا کہنا ہے کہ یقوب میمن کے جنازے میں جو لوگ شامل تھے وہ ممکنہ دہشت گرد ہیں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان پر نظر رکھنی چاہیے۔

لیکن سچ یہ ہے کہ آزادی کی کچھ حدیں بھی ہوتی ہیں اور اگر آپ خود اچھے برے کا فرق نہیں کر سکتے تو ظاہر ہے کہ کسی کو تو آپ کی رہنمائی کرنا ہوگی۔ اسی لیے حکومت نے مبینہ طور پر تقریباً 800 ویب سائٹوں پر پابندی لگا دی ہے جن میں بڑی تعداد میں پورنوگرافک یا فحش ویب سائٹیں شامل ہیں۔

فلم ساز رام گوپال ورما اس پر بہت ناراض ہیں۔ انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی حکومت فحش ویب سائٹوں پر پابندی لگائے گی، اگلے الیکشن میں اس کا صفایا ہو جائے گا۔ آپ کو شاید لگے کہ رام گوپال ورما ذرا جذباتی ہو گئے ہیں لیکن اگر آپ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے فری ٹائم میں بڑی تعداد میں ہندوستانی کہاں وقت گزار رہے ہیں۔

رام گوپال ورما کا مشورہ ہے کہ حکومت کو ان چکروں میں نہیں پڑنا چاہیے، لوگ اپنے گھر کی تنہائی میں جو کرنا چاہتے ہیں وہ کریں گے ہی اور انھیں کرنے دیا جانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ورون گاندھی لگتا پر ایک تقریر میں یہ کہنے کا الزام تھا کہ ’جو ہاتھ ہندوؤں کی طرف بڑھیں گے، انھیں کاٹ دیا جائے گا‘

سب جانتے ہیں کہ انسان خود اپنی غلطیوں سے جو سبق سیکھتا ہے، وہ کبھی نہیں بھولتا۔ یہ بات بی جے پی کے لیڈر اور مینکا گاندھی کے بیٹے ورون گاندھی نے ثابت کی ہے۔ ان کی پارٹی پھانسی کی سزا ختم کرنے کے خلاف ہے لیکن یعقوب میمن کی پھانسی پر ملک میں جاری بحث میں ورون گاندھی نے پھانسی ختم کرنے کی وکالت کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے میں جلاد کی موجودگی انتہائی شرمندگی کی بات ہے اور ویسے بھی جن لوگوں کو پھانسی کی سزا ہوتی ہے ان کی بڑی اکثریت انتہائی غریب ہوتی ہے اور ان میں سے 94 فیصد کا تعلق دلت (پسماندہ) برادریوں یا اقلیتوں سے ہوتا ہے۔

ورون گاندھی لگتا ہے کہ بالکل بدل گئے ہیں۔ سنہ 2009 کے پارلیمانی انتخاب کے بعد انھیں مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اس وقت ان پر ایک تقریر میں یہ کہنے کا الزام تھا ’جو ہاتھ ہندوؤں کی طرف بڑھیں گے، انھیں کاٹ دیا جائے گا۔‘

اسی بارے میں