قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے رہنما مستعفی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ تصویر سنہ 2001 کی ہے جب ملا عمر کے معتمد خاص سید محمد طیب آغا سپن بولدک میں ایک اجلاس میں شامل ہوئے تھے

قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ نے اپنے امیر اور قائد ملا محمد عمر کی موت کے اعلان کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں سیاسی دفتر کے سربراہ سید محمد طیب آغا نے کہا کہ تنظیم اپنے تمام امور بشمول نئے سربراہ کا انتخاب افغانستان کے اندر ہی طے کرے۔

نامہ نگاروں کے مطابق ان کا استعفیٰ بظاہر ملا عمر کی موت کے بعد تنظیم میں تقسیم کے پیش نظر آیا ہے۔

خیال رہے کہ ملا عمر کی موت کے بعد گذشتہ ہفتے افغان طالبان کی شوریٰ نے پاکستان میں ملا اختر منصور کو اپنا نیا امیر مقرر کیا تھا لیکن طیب آغا نے اپنے بیان میں ان کا براہِ راست کوئی ذکر نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FILE PHOTO
Image caption طالبان نے ملا محمد عمر کی قیادت میں افغانستان میں اسلامی حکومت قائم کی تھی

تاہم انھوں نے دو سال تک ملا عمر کی موت کی خبر کے چھپائے رکھنے کو ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا اور اعتراف کیا کہ پاکستان کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کے معاہدے نے ان کی موت کی خبر کے افشا ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انھوں نے ملک کے باہر کسی رہنما کے امیر بنائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے لکھا: ’ملک سے باہر رہنے والے افراد کے ذریعے ملک کے باہر کسی رہنما کا منتخب کیا جانا بھی تاریخی غلطی ہے کیونکہ ملک کے باہر کسی بھی رہنما کی تعیناتی کا خراب نتیجہ نکلا ہے۔‘

انھوں نے سویت یونین کے حملے کے بعد ماسکو میں رہنما کی نامزدگی یا پھر جرمنی کے شہر بون میں امریکی حملے کے بعد رہنماؤں کے انتخابات کو مثال کے طور پر پیش کیا۔

میڈیا کو جاری بیان کے مطابق انھوں نے کہا کہ سنہ 2013 سے انھیں ملا عمر کا کوئی آڈیو پیغام نہیں ملا اور ہرایک کو یہ کہا جاتا تھا کہ کسی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے سب اپنا کام کریں۔

Image caption ملا عمر کی موت کی خبر کو چھپانے کو طیب آغا نے تاریخی غلطی قرار دیا

تاہم انھوں نے لکھا: ’لیکن میں ان کا آڈیو پیغام چاہتا تھا تاکہ لوگوں کے خدشات کو دور کر سکوں۔‘

انھوں نے لکھا: ’مستقبل کے ممکنہ تنازعے سے، اللہ کے سامنے قابل گرفت ہونے سے، اپنے ضمیر کو دبانے اور امیر المومنین ملا محمد عمر کے تصور اور پالیسوں سے انحراف کرنے سے خود کو بچانے کے لیے اور اپنے ہاتھوں خود اپنے کاموں کو برباد نہ کرنے کے خیال سے کئی دنوں تک خوب غور و خوض کرنے کے بعد نیک نیتی کے ساتھ میں نے سیاسی دفتر کے ڈائریکٹر اور سیاسی امور کے سربراہ کی حیثیت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’اب میں کسی قسم کے پیغام، بیان، فیصلے اور اسلامی امارت میں عمل دخل سے علیحدہ ہوں۔ میں اس متنازع صورت حال میں کسی بھی فریق کا حامی نہیں ہوں۔‘

انھوں نے متبنہ کیا کہ ’طالبان کو ہر طرف سے پھانسنے کی کوشش ہو رہی ہے اللہ ان کی حفاظت فرمائے۔‘

انھوں نے بیان میں کہا کہ ’فوجی اہلکاروں اور کمانڈروں کو چاہیے کہ وہ اپنی آزادی اور اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے ملا عمر کی پالیسی اور ہدایات پر عمل کریں۔‘

اسی بارے میں