کابل: پولیس کے تریبتی مرکز کے باہر خودکش دھماکہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption دھماکے کے بعد علاقے میں فائرنگ کی کی آوازیں سنی گئیں تاہم مزید مقصدہ اطلاعات ابھی سامنے نہیں آئیں

افغانستان کے دارالحکومت میں دو علیحدہ بم دھماکوں میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔ جمعے کی شام کو ایک خودکش حملے آور نے شہر کے ہوائی اڈے سے شمال میں پولیس کے تربیتی مرکز کے باہر خود کو کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے تقریباً 20 زیرِ تربیت اہلکار ہلاک ہوگئے۔

دھماکے کے بعد علاقے میں فائرنگ کی کی آوازیں سنی گئیں تاہم مزید مقصدہ اطلاعات ابھی سامنے نہیں آئیں۔

اس سے قبل شہر کے علاقے شاہ شاہد میں ہونے والے ایک زور دار کار بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور ڈھائی سو زخمی ہوئے۔

دونوں دھماکوں کی ذمہ داری کا شک طالبان پر کیا جائے گا۔ افغان صدر اشرف غنی نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ یہ حملے طالبان کے اندر قیادت کے معاملات سے منسلک جھگڑوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شہر کے علاقے شاہ شاہد میں ہونے والے ایک زور دار کار بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور ڈھائی سو زخمی ہوئے

حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو پولیس کے تربیتی مرکز کے باہرہونے والے دھماکے میں حملہ آور پولیس کی وردی پہن رکھی تھی۔

جمعرات کو افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر کے دارالحکومت پلِ علم میں ایک خودکش دھماکے میں تین پولیس اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق خودکش حملہ بارود سے بھرے ٹرک کے ذریعے کیا گیا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ تقریباً 500 میٹر فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی تھی اور طالبان رہنما ملا عمر کی ہلاکت کے بعد یہ ان کا پہلا حملہ ہے۔

پیر کے روز افغان طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالبان اراکین کو نئے سربراہ ملا اختر منصور کی بیعت لیتے دیکھایا گیا۔

طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘

اسی بارے میں