ایل او سی پر دراندازی کی کوشش،ایک بھارتی فوجی ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption واضح رہے کہ بھارتی فوج نے کئی ایسی یونٹس قائم کی ہیں جن میں خالص کشمیری جوان ہیں۔ ٹیریٹوریل آرمی ان میں سے زیادہ سرگرم ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اتوار کو فوج کے مطابق شمالی کشمیر کے کیرن اور ٹنگڈار سیکٹروں میں مسلح دراندازی کی دو الگ الگ کوششوں کے دوران جھڑپوں میں ایک فوجی اور دو مسلح شدت پسند مارے گئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے جموں میں ایک تصادم کے دوران ایک شدت پسند کو ہلاک اور ایک مبینہ پاکستانی شدت پسند کو زندہ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

تازہ واقعات کے بارے میں سری نگر میں تعینات بھارتی فوج کی 15ویں کور کے ترجمان لیفٹینٹ جنرل این این جوشی کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے ٹنگڈار اور کیرن سیکڑوں میں سنیچر اور اتوار کی سے مسلح دراندازی کی الگ الگ کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا، تاہم جھڑپوں کے نتیجے میں ایک فوجی اور دو مسلح درانداز مارے گئے ہیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے ٹنگڈار خطے میں کل رات مسلح دراندازوں کو چیلنج کیا گیا تو انھوں نے فائرنگ کی جس میں آرمی کا ایک فوجی ہلاک ہوگیا۔بشیر واری کپوارہ ضلع کے بوہی پورہ کا باشندہ ہے۔

دوسری جانب ریڈیو پاکستان کے مطابق بھارتی فوج نے اتوار کو کنٹرول لائن کے جندروٹ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی ہے جس کے نتیجے میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ایک خاتون گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگی۔

واضح رہے کہ بھارتی فوج نے کئی ایسی یونٹس قائم کی ہیں جن میں خالص کشمیری جوان ہیں۔ آرمی ان میں سے زیادہ سرگرم ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ دراندازوں کے بارے میں یہ قطعی طور نہیں بتایا جا سکتا کہ وہ واپس پاکستانی علاقے میں چلے گئے یا کپوارہ میں ہی چھپے ہوئے ہیں۔

اس دوران نزدیک کے کیرن سیکٹر میں بھی ایک جھڑپ کا دعویٰ کیا گیا ہے جس میں فوج کا کہنا ہے کہ دو مسلح دراندازوں کو ہلاک کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر میں مسلح تشدد میں ایک ایسے وقت اضافہ ہو رہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی ایجنڈا ترتیب دیا جارہا ہے

لیفٹیننٹ جنرل جوشی کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات پر موسم کی خرابی کے باوجود وسیع پیمانے کا آپریشن شروع کیا گیا جو جاری ہے۔

گذشتہ ہفتے جموں کے ہندواکثریتی ضلع ادھم پور میں ایک جھڑپ کے دوران ایک مسلح شدت پسند کو ہلاک اور ایک کو زندہ گرفتار کرنے کا دعوی کیا گیاتھا۔

پکڑے جانے والے شدت پسند کا نام نوید بتایا جاتا ہے اور اس کے بارے میں دعوی کیا گیا کہ وہ پاکستانی شہر فیصل آباد کا شہری ہے۔

گذشتہ ماہ بھی شمالی کشمیر کے ہی ٹنگڈار چھیتر میں فوج نے بتایا کہ پاکستان کی چھجولہ پوسٹ کی جانب سے چھ سے سات مسلح دراندازوں نے بھارتی کنٹرول والے خطے میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن جب انھیں بھارتی کنٹرول والے درشن پوسٹ کے پاس روکنے کی کوشش کی گئی تو انھوں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

اس حملے میں تین فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے آس پاس پہاڑوں پر برف پگھلنے کے ساتھ ہی مسلح دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

کشمیر میں مسلح تشدد میں ایک ایسے وقت اضافہ ہو رہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان مذاکراتی ایجنڈا ترتیب دیا جارہا ہے۔

وزرائے اعظم نریندر مودی اور نواز شریف حالیہ دنوں روس میں ملاقات کر چکے ہیں اور اس ماہ کے آخر میں قومی سلامتی کے مشیروں کا اعلیٰ سطحی اجلاس طے ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس جولائی میں بھارت میں ہندو قوم پرست بی جے پی کو اقتدار ملنے کے بعد کشمیر میں مسلح تشدد کی سطح میں اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ نگار نصیر گنائی کہتے ہیں: ’ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نوجوانوں کو بی جے پی کا اقتدار اپنی مسلم شناخت کے لیے خطرہ لگتا ہے، لیکن زمینی حقائق بتا رہے ہیں کہ ایک سال کے دوران اعلی تعلیم یافتہ نوجوان مسلح مزاحمت کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں