’پاکستان میں کرائے کے قاتل ہمیں جنگ کا پیغام دیتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ arg
Image caption افغان صدر کی جانب سے سخت ردعمل کابل میں ہونے والے تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک میں تشدد کی حالیہ لہر پر پاکستان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں امن کی امید تھی لیکن پاکستان سے کابل کو جنگ کے پیغامات مل رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے تعاون پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔

پیر کو افغان صدر اشرف غنی نے افغانستان میں قیام امن، طالبان کے ساتھ مذاکرات اور اس حوالے سے پاکستان کے کردار کے بارے میں ایک میڈیا کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے اب تک کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ دس مہینوں میں افغان حکومت نے یہ مستقل مزاجی سے ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس امن کے قیام کے لیے حوصلہ اور قوت ہے۔ تاہم پاکستان اب بھی ایسے کرائے کے قاتلوں کی آماجگاہ ہے جو ہمیں جنگ کا پیغام دیتے ہیں۔

انھوں نے الزام لگایا کہ حالیہ چند مہینوں میں اور خصوصاً چند دنوں میں ہونے والے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ’افغان عوام کو نشانہ بنانے کے لیے خوکش بمبار تیار کرنے کی تربیت گاہیں اور بم تیار کرنے کی فیکٹریاں ماضی کی طرح اب بھی پاکستان میں کام کر رہی ہیں۔‘

افغان صدر کی جانب سے یہ سخت ردعمل کابل میں ہونے والے تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دفتر خارجہ نے منگل کو افغان صدر کی پریس کانفرنس سے متعلق بیان جاری کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان صدر کی پریس کانفرنس اور پاکستان سے متعلق بیانات کا جائزہ لیا ہے۔

انھوں نےکہا کہ دہشت گردی دونوں ممالک کی مشترکہ دشمن ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے تعاون پر مبنی سوچ کی ضرورت ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان افغانستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھتا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے افغانستان کی مکمل حمایت کرتا ہے۔

Image caption رجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان صدر کی پریس کانفرنس اور پاکستان سے متعلق بیانات کا جائزہ لیا ہے

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں افغان قیادت میں امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت اور اس میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار سید انور نے بتایا کہ افغان صدر نے پاکستانی عوام اور حکومت سے سوال کیا کہ’اگر کوئی گروہ ایسا قتل عام جو کابل کے شاہ شہید میں ہوا، اسلام آباد میں کرتا اور یہی گروہ افغانستان میں پناہ گاہ اور دفاتر رکھتا تو آپ کا ردعمل کیا ہوتا؟‘

صدر اشرف غنی کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے گذشتہ روز پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سے بات چیت کی ہے اور انھیں بتایا کہ جیسے وہ دہشت گردی کو اپنے ملک کے لیے دیکھتے ہیں، ویسے ہی افغانستان کے لیے بھی دیکھیں۔

صدر اشرف غنی نے کہا کہ چند ہفتوں میں جو فیصلے پاکستانی حکومت کرے گی وہ دوطرفہ تعلقات کو اگلی کئی دہائیوں تک متاثر کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’پاکستانی وزیراعظم نے وعدہ کیا کو وہ جمعرات کو افغان وفد سے ملاقات سے قبل ایک تفصیلی منصوبہ تیار کرنے کے لیے اپنی حکومت کو ہدایت کریں گے جس پر عملدرآمد کے لیےاس وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کی جائے گی۔‘

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں گذشتہ چند دنوں میں دہشت گردی کی کئی کارروائیاں ہوئی ہیں اور یہ تازہ حملہ بظاہر انہی کارروائیوں کی ایک کڑی نظر آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کابل شہر میں گذشتہ چند دنوں میں تشدد کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے

کابل میں گذشتہ جمعے کو ہونے والے دہشت گردی کے تین سنگین واقعات کے بعد صدر اشرف غنی نے سنیچر کو قومی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر غور کیا گیا تھا۔

اس سے قبل پیر کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب ایک چوکی پر خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چیک پوسٹ کے قریب ایک خودکش حملہ آور نے گاڑی دھماکے سے اڑا دی جس کے نتیجے میں کم از کم چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق دھماکے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

ابھی تک کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن اس سے قبل کابل شہر میں ہونے والے دھماکے تین دھماکوں میں سے ایک کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی تھی۔ ان دھماکوں میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور کا ہدف بکتر بند گاڑیوں کا ایک قافلہ تھا۔

کابل پولیس کے سربراہ سید گل آغا روحانی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ سوموار کی دوپہر ایک خود کش حملہ آور نے شہر کے ہوائی اڈے کے راستے میں پہلی چوکی سے اپنی گاڑی ٹکرا دی۔

جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں دھماکے کی جگہ سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں جس سے دھماکے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دھماکے کے بعد یہ شاہراہ ایمبولینسوں کے سائرنوں سے گونجنے لگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو ہونے والے تشدد کے واقعات میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے

اس سے پہلے طالبان کے ایک خود کش حملہ آور نے جمعے کو شہر میں پولیس اکیڈمی کے قریب اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑا لیا تھا جس میں پولیس میں بھرتی کے خواہش مند 20 امیدوار ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے تھوڑی ہی دیر بعد مسلح افراد نے ہوائی اڈے کے قریب واقع نیٹو کے فوجی اڈے ’کیمپ انٹیگرٹی‘ پر حملہ کر دیا تھا۔

اس حملے میں نیٹو کے ایک فوجی اہلکار کار اور آٹھ ٹھیکیداروں سمیت 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعے ہی کو شاہ شاہد کے علاقے میں واقع ایک فوجی اڈے کے باہر بارود سے بھرے ایک ٹرک میں دھماکے سے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس وقت افغان صدر نے ایک بیان میں اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ یہ حملے طالبان کے اندر قیادت کے معاملات سے منسلک جھگڑوں کو چھپانے کی کوشش ہیں۔

خیال رہے کہ یہ حملے طالبان کے امیر ملا عمر کی ہلاکت کی تصدیق کے بعد ہو رہے ہیں۔

خیال رہے کہ پیر کے روز افغان طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالبان اراکین کو نئے سربراہ ملا اختر منصور کی بیعت لیتے دکھایا گیا تھا۔

طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘

اسی بارے میں