چین میں انسانی اعضا کا غیرقانونی بازار

Image caption لیان رونگوا کو یہ نہیں پتہ کہ آخر ان کے دونوں ہی بیٹے کیوں بیمار ہوئے

وہ مرحلہ کتنا مشکل ہو سکتا ہے جب کسی ماں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ اس کا کون سا بیٹا زندہ رہے اور کون مر جائے۔

51 سالہ چینی خاتون لیان رونگوہا کو رواں سال ایک ایسا ہی مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔

ان کے دونوں بیٹوں کو یوریمیا یا پیشاب کی خرابی کی بیماری لاحق تھی جس میں گردے ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ ان میں سے کسی ایک ہی کو اپنا گردہ دے سکتی تھیں۔ ان کے شوہر کو ہائی بلڈ پریشر تھا اس لیے وہ بیٹوں کو اپنا عضو عطیہ نہیں کر سکتے تھے۔

اس واقعے کے بارے میں بتاتے ہوئے لیان کی آنکھیں نم ہوگئیں اور انہوں نے بتایا کہ:’میں نہیں جانتی کہ میرے دونوں بیٹے کس طرح بیمار ہوگئے۔‘

بالآخر ان کے 26 سالہ بڑے بیٹے لی ہائچھنگ نے فیصلہ کیا کہ ان کے چھوٹے بھائی 24 سالہ ہائی سونگ کا ٹرانسپلانٹ کیا جائے اور ماں کا گردہ اسے دیا جائے۔

بڑے بھائی ہا‏ئچھنگ کو بیماری کی وجہ سے اپنی میڈیکل کی پڑھائی ترک کرنی پڑی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کو گردہ دینے کے حق میں اس لیے ہیں کیوں کہ وہ چھوٹا ہے اور اس کے صحت یاب ہونے کا زیادہ امکان ہے۔

Image caption لی تھائنگ کو امید ہے کہ انھیں ایک نہ ایک دن ٹرانسپلانٹ کے لیے گردہ مل جائے گا

انھوں نے کہا: ’اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، مجھے امید ہے کہ مجھےگردہ مل جائے گا۔ لیکن اگر نہ ملا تو میں ڈایالیسس کرواتا رہوں گا۔‘

لیکن ان کے ٹرانسپلانٹ کی امید بہت کم ہے کیونکہ چین میں اعضا اتنی آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔

بہت عرصے تک چین میں منتقلیِ اعضا کے لیے موت کی سزا پانے والے قیدیوں کے اعضا استعمال ہوتے رہے ہیں لیکن بین الاقوامی تنقید کے نتیجے میں بیجینگ کا کہنا ہے کہ اس نے رواں سال اس پر پابندی لگا دی ہے۔

اب حکومت کا کہنا ہے کہ منتقلیِ اعضا کے لیے صرف عطیات پر ہی انحصار کیا جائے گا۔

حکومت نے اعضا کے لیے ایک قومی بینک قائم کیا ہے جو ان افراد کو اعضا فراہم کرے گا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہوں گے۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہاں بدعنوانی کا امکان بہت زیادہ ہے اور جان پہچان والے قطار میں آگے آ سکتے ہیں۔

حکومت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شاید اس قسم کے عطیات کے لیے عوام کو تیار کرنا ہے کیونکہ بہت سے چینی یہ سوچتے ہیں کہ جسم مقدس ہے۔

اسی وجہ سے اگر دنیا میں اعضا کے عطیات کی شرح پر نظر ذالیں تو چین میں سب سے کم صفر 0.6 فی دس لاکھ جبکہ سپین میں یہ ہر دس لاکھ میں یہ شرح 37 ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلے چین میں پھانسی دیے جانے والے قیدیوں کے عضو کا ٹرانسپلانٹ میں استعمال ہوتا تھا

حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال 12 ہزار سے زیادہ ٹرانسپلانٹ ہونے ہیں اور پہلے کے مقابلے میں اس ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق تقریباً تین لاکھ لوگوں کو ٹرانسپلانٹ کی ضرورت ہے اور مطالبے میں اضافے نے غیرقانونی خرید و فروخت کو فروغ دیا ہے۔

کئی ہفتوں کی تفتیش کے بعد شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ایک نوجوان اس بارے میں بتانے کے لیے تیار ہوا۔

21 سالہ نوجوان نے اپنی ٹی شرٹ اٹھا کر ہمیں آپریشن کا نشان دکھایا اور بتایا کہ اس نے اپنا گردہ سات ہزار امریکی ڈالر میں فروخت کیا تاکہ وہ اپنے جوئے کے قرض ادا کر سکے۔

انھوں نے خفیہ طور پر چلنے والے غیرقانونی بازار کے بارے میں بتایا کہ کس طرح اعضا کی تجارت کرنے والے اس کام کے لیے آن لائن بھی سرگرم ہیں۔

انھوں نے بتایا: ’پہلے مجھے ایک ہسپتال لے جایا گیا جہاں میرے خون کا ٹیسٹ کیا گیا۔ اس کے بعد میں کئي ہفتے تک ایک ہوٹل میں مقیم رہا جس دوران غیرقانونی کاروبار کرنے والا کسی ایسے شخص کی تلاش کرتا رہا جسے میرا گردہ دیا جا سکے۔‘

’پھر ایک دن مجھے لینے کے لیے ایک گاڑی آئی۔ ڈرائیور نے کہا کہ میں آنکھوں پر پٹی باندھ لوں۔ اس کے بعد ہم تقریباً آدھے گھنٹے تک ایک ناہموار سڑک پر چلتے رہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چین میں اعضا کی فراہمی کے مقابلے مطالبہ زیادہ ہے جس کی وجہ سے کالے بازار کو فروغ مل رہا ہے

’جب آنکھوں سے پٹی اتاری گئی تو مجھے احساس ہوا کہ وہ کوئی فارم ہاؤس تھا جس کے اندر ایک پورا سرجیکل تھیئٹر تھا۔ وہاں ڈاکٹر اور نرسیں یونیفارم میں تھے۔

’جس خاتون کو میرا گردہ دیا جانا تھا وہ بھی اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہاں موجود تھی لیکن ہم نے بات نہیں کی۔

’میں خوفزدہ تھا اور پھر ڈاکٹر نے مجھے بے ہوش کر دیا۔ جب ہوش میں آیا تو میں ایک دوسرے فارم ہاؤس میں تھا۔ میرا ایک گردہ نکل لیا گیا تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’خریدار کو زندگی چاہیے تھی اور مجھے پیسہ۔‘

یہ ایک ایسی کہانی ہے جس کی ہم آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کر سکتے۔

ایک شخص جو غیرقانونی طور پر اپنے لیے گردہ نہیں خریدنا چاہتا وہ ہائچھنگ ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی کو ان کی ماں نے اپنا گردہ دیا ہے۔

بہت سے دوسرے افراد کی طرح انہیں خوف ہے کہ کہیں ٹرانسپلانٹ سے پہلے ہی سب کچھ ختم نہ ہو جائے۔

اسی بارے میں