’مخالفین کو ملا منصور کا ساتھ دینا ہی پڑے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA REUTERS
Image caption ملا برادر کی پاکستان میں گرفتاری کے بعد ملا عمر نے شہری ہوابازی کے سابق وزیر ملا اختر محمد منصور کو اپنی نیابت کی ذمہ داری سونپی تھی

ملا عمر کی موت کی شکل میں طالبان کی قیادت کے بارے میں بدترین خدشات نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے۔

ایک عرصے سے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ملا عمر کے جانشین کے انتخاب کے معاملے میں عدم اتفاق سامنے آ سکتا ہے اور طالبان تحریک کے بانی اور 19 برس تک اس کی قیادت کرنے والے اس مضبوط رہنما کی عدم موجودگی سے طالبان کی صفوں میں اختلافات جنم لیں گے۔

اور بالکل یہی ہوا جب 30 جولائی کو طالبان نے تسلیم کیا کہ ملا عمر 23 اپریل 2013 کو انتقال کر گئے تھے تو اس کے ساتھ ہی جانشینی کے معاملے میں طالبان کی اندرونی دھڑے بندی کھل کر سامنے آ گئی۔

اگرچہ ملا عمر کو طالبان پر مکمل کنٹرول تھا لیکن انھوں نے کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا۔ اپنے دورِ امارت میں انھوں نے اپنے خاندان کے کسی فرد کو بھی تنظیم میں اہم عہدہ نہیں دیا۔

ان کے دو بھائی عبدالخالق اور عبدالسلام دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ 1999 میں قندہار میں اس وقت مارے گئے تھے جب ملک پر طالبان کی حکومت تھی۔

اب ملا عمر کے زندہ بچ جانے والے واحد بھائی ملا عبدالمنان اور خود ان کے بڑے بیٹے ملا محمد یعقوب طالبان کے دھڑوں کے درمیان قیادت کی جدوجہد میں ملا عمر کے خاندان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

ملا یعقوب کو ملا عمر کا جانشین بنانے کے خواہشمندوں کو اس دلیل کا سامنا ہے کہ طالبان چونکہ ’اسلامی‘ تنظیم ہے لہٰذا اس میں خاندانی نظامِ اقتدار کی گنجائش نہیں ہے۔

اس کے علاوہ نوجوان اور ناتجربہ کار 23 سالہ یعقوب کو طالبان جیسی تنظیم کی قیادت سنبھالنے کی بڑی ذمہ داری سے عہدہ برا ہونے کا اہل بھی نہیں سمجھا جا رہا۔

ملا عمر نے دسمبر 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے سے اپنے انتقال تک پہلے تو ملا عبیداللہ کو طالبان کی تحریک کی روزمرہ امور کی انجام دہی کے لیے اپنا نائب بنایا۔ جب ملا عبیداللہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ہتھے چڑھے اور پھر ممکنہ طور پر زیرِ حراست دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تو ملا عبدالغنی برادر نے ان کی جگہ لی۔

Image caption ملا عمر کے بھائی عبدالمنان نے جانشینی کے فیصلے کے لیے طالبان کے مذہبی علما و مشائخ کے بڑے جرگے کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے

برادر بھی پاکستان میں گرفتار ہوئے تو ملا عمر نے شہری ہوابازی کے سابق وزیر ملا اختر محمد منصور کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔

ملا عمر کی غیر موجودگی میں ملا اختر منصور نے ان کے نمائندے کی حیثیت سے طالبان کی قیادت کی اور اپریل 2013 میں ان کی وفات کے بعد وہ طالبان کے باقاعدہ سربراہ بن گئے۔ اپنے دور میں ملا اختر نے تمام فیصلے طالبان کی ’شورائے رہبر‘ کی مشاورت سے کیے۔

طالبان کے پیچیدہ سیاسی امور اور افغانستان میں مزاحمت کی قیادت کا تجربہ رکھنے والے ملا اختر منصور کو نئے ’امیر‘ کے انتخاب کے سلسلے میں دیگر امیدواروں پر برتری تھی اور اسی لیے شورائے رہبر کی اکثریت نے انھی کے حق میں فیصلہ دیا۔

چونکہ طالبان کی تحریک چلانے کے لیے ملا عمر نے خود ملا منصور کا انتخاب کیا تھا اس لیے ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ امارت پر ان کا حق سب سے زیادہ ہے اور ان کی جگہ کسی اور کو امیر بنانے سے طالبان کی عسکری کارروائیوں کا سلسلہ متاثر ہوگا جس سے جنگجوؤں کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی۔

اب جبکہ طالبان کے سینیئر رہنما ملا منصور اور ان کے مخالفین کے درمیان مفاہمت کی کوششیں کر رہے ہیں، ملا منصور کے حامی گروپ کا کہنا ہے کہ نئے امیر کی بیعت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور اب سے واپس نہیں کیا جا سکتا اور یہی وہ معاملہ ہے جس پر فریقین کا اختلاف موجود ہے۔

ملا منصور کو جو برتری حاصل ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی مشکلات ختم ہو چکی ہیں۔ انھیں درپیش سب سے بڑی مشکل ملا عمر کے خاندان کی جانب سے ان کی بیعت نہ کیا جانا ہے۔

ملا عمر کے بھائی عبدالمنان نے جانشینی کے فیصلے کے لیے طالبان کے مذہبی علما و مشائخ کے بڑے جرگے کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی ہمدردیاں ملا منصور کے مخالفین کے ساتھ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ادھر پاکستان میں کسی نامعلوم مقام سے اپنے جذباتی خطاب میں ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے اتحاد کے لیے بطور باورچی کام کرنے اور خودکش بمبار بننے تک کے لیے تیار ہیں۔

ملا منصور کے مخالف گروپ میں چونکہ بڑے نام موجود نہیں اور وہ طالبان جنگجوؤں کی حمایت حاصل کرنے میں ابھی تک ناکام ہیں، اس لیے یہ گروپ ملا عمر کے خاندان پر تکیہ کیے ہوئے ہے۔

اس گروپ نے طالبان کی علما شوریٰ کو یہ اختیار بھی دیا ہے کہ وہ جانشینی کے بارے میں جو بھی فیصلہ کرے انھیں قبول ہوگا اور اب وہ ملا منصور پر دباؤ ڈلوا رہے ہیں کہ وہ شوریٰ کا اجلاس بلائیں لیکن ملا منصور کے حامی کسی بھی حال میں قیادت سے دستبرداری کو تیار نہیں۔

ملا اختر منصور کے مخالف گروپ کے قائدین میں سابق وزیرِ داخلہ ملا عبدالرزاق، سابق گورنر ملا محمد حسن رحمانی اور ملا محمد رسول اور سابق نائب وزیرِ خارجہ ملا عبدالجلیل شامل ہیں لیکن یہ سب کسی اہم طالبان شخصیت کو ساتھ ملانے میں ناکام رہے ہیں اور یہ سب مل کر بھی طاقت اور وسائل کے معاملے میں ملا منصور کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

ملا منصور نے ایک عقلمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے سراج الدین حقانی کو اپنے نائبین میں شامل کر دیا ہے جس سے انھیں طالبان کے سب سے طاقتور دھڑے کی حمایت مل گئی ہے جبکہ انھوں نے اپنے دوسرے نائب ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو مذہبی اور سیاسی معاملات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی ہے۔

طالبان کے عسکری کمانڈر عبدالقیوم ذاکر کا اس معاملے میں غیرجانبدار رہنا بھی ملا منصور کے حق میں گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طالبان کے عسکری کمانڈر عبدالقیوم ذاکر کا اس معاملے میں غیرجانبدار رہنا بھی ملا منصور کے حق میں گیا ہے

ملا عمر کے خاندان کا یہ بیان بھی ملا منصور کے لیے مددگار ثابت ہوا کہ ان کی موت تپِ دق کی وجہ سے ہوئی، کیونکہ اس سے ان پر عائد یہ الزامات ختم ہوگئے کہ انھوں نے اپنے ساتھی گل آغا کے ساتھ مل کر ملا عمر کو ہلاک کیا تھا۔

چونکہ ملا محمد اختر منصور ہی نے افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کیا تھا اس لیے افغانستان اور پاکستان بھی یہی چاہیں گے کہ طالبان کی قیادت ان کے پاس رہے اور بات چیت دوبارہ شروع ہو۔

اگرچہ ملا منصور نے حال ہی میں مذاکرات مخالف بیان دیا لیکن اس بیان کو عمومی طور پر طالبان کی قیادت کے معاملے میں اپنا دعویٰ مضبوط کرنے کی کوشش سمجھا گیا ہے۔

یہی وہ حالات ہیں جن میں ملا منصور کا طالبان کی امارت سے ہٹایا جانا ممکن نہیں دکھائی دیتا اور جانشینی کے معاملے پر ان کے مخالفین کو ان کا ساتھ دینا ہی پڑے گا۔

ممکن ہے کہ ملا منصور طالبان تحریک میں اہم عہدے دے کر اپنے مخالفین کو ہم نوا بنا لیں لیکن اگر اس سے بھی بات نہ بنی تب بھی ملا منصور اپنے مخالفین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے نکل جائیں گے۔

اسی بارے میں