’دولتِ اسلامیہ افغانستان کے لیےخطرہ بن سکتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISIS
Image caption افغانستان میں دولتِ اسلامیہ اور طالبان کے درمیان جھڑپوں کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں

امریکی فوج کے ایک جنرل کے مطابق افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ قدم جما رہی ہے اور زیادہ بڑے خطرے کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

افغانستان میں تعینات بریگیڈیئر جنرل ولسن شوفنر نے پینٹاگون میں موجود صحافیوں سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دولتِ اسلامیہ نے افغانستان میں ابھی یہ صلاحیت حاصل نہیں کی کہ وہ ایک وقت میں ایک سے زیادہ علاقوں میں منظم انداز میں عسکری کارروائیاں کر سکے۔

’دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں افغان طالبان کے سر قلم‘

دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے اور گذشتہ کئی ماہ سے امریکہ کی قیادت میں اس پر فضائی حملے کیے جا رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق بریگیڈئیر جنرل نے کہا:’ ہم نے دیکھا ہے کہ کسی حد تک ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن ابھی کارروائیاں کرنے کی اس حد تک نہیں پہنچے ہیں جیسا کہ ہم نے عراق اور شام میں دیکھا ہے، اگرچہ اس میں زیادہ پریشان کن اور خطرناک بننے کی صلاحیت موجود ہے اور اس کو زیادہ سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔‘

امریکی جنرل کے مطابق افغانستان کے ان علاقوں میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی طالبان سے جھڑپیں ہو رہی ہیں جہاں دولتِ اسلامیہ طالبان کے زیر اثر علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت عدم استحکام کا باعث ہے اور اس کے درمیان میں عام افغان شہری پھنس گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کے پاس ہیں

امریکی جنرل نے مزید کہا کہ یہ ایک سکیورٹی مسئلہ ہے اور ہم نے افغان حکومت سے اس کو حل کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔

تاہم انھوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ آیا افعانستان میں امریکہ فضائیہ دولتِ اسلامیہ پر حملے کر رہی ہے کہ نہیں۔

رواں سال جنوری میں دولتِ اسلامیہ نے طالبان کے ایک منحرف ترجمان حافظ سعید خان کو پاکستان اور افغانستان کے خطے میں اپنا کمانڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکہ نے افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کے رہنماؤں کو ڈرون حملوں میں نشانہ بھی بنایا ہے۔

افغانستان میں طالبان تحریک کے سربراہ ملا عمر کے انتقال کے بعد ملا اختر منصور کے نیے امیر بننے پر تحریک میں اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان میں اختلافات برقرار رہتے ہیں تو اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دولتِ اسلامیہ افغانستان میں خود کو زیادہ منظم کر سکتی ہے۔

اسی بارے میں