مذہبی قوم پرستوں کا دور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں ان دنوں مذہبی قوم پرستی الگ الگ رنگوں میں نمودار ہو رہی ہے

بھارت میں پچھلے چنددنوں سے سوشل میڈیا پر ’اکھنڈ بھارت‘ کے نام سے بھارت کا ایک نقشہ گردش کر رہا ہے۔

اس نقشے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے علاوہ نیپال، بھوٹان، تبت، افغانستان، برما اور سری لنکا کو بھی شامل کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ یہ سبھی ممالک اور خطے کبھی بھارت کا حصہ تھے۔

اس میں `15 اگست یعنی بھارت کی یوم آزادی کو ’یوم عہد‘ کے طور پر منانے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس پیغام میں لکھا ہواہے ’اکھنڈ بھارت‘ یعنی ان سبھی ممالک کو دوبارہ بھارت میں شامل کرنا ہر محب وطن بھارتی کا خواب ہے۔

سوشل میڈیا پر ہی کچھ دنوں سے یہ پیغام بھی بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے کہ بھارت کے بڑے بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز امریکہ میں واقع عیسائی مذہبی اداروں کی ملکیت ہیں۔ بعض چینلوں کے سلسلے سعودی عرب اور متحد عرب امارات سے بھی جوڑے گئے ہیں۔

اس گمراہ کن پیغام کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ میڈیا میں موجودہ حکومت کے خلاف اگر کوئی بحث یا خبر پیش کی جا رہی ہے تو وہ ’ملک اور ہندو دشمن‘ عناصر کے سبب کی گئی ہے۔

Image caption ملک کی 70 فی صد آبادی محض زندہ رہنے کے لیے جد و جہد کر رہی ہے

بھارت میں ان دنوں مذہبی قوم پرستی الگ الگ رنگوں میں نمودار ہو رہی ہے۔ ان دنوں ٹیلی ویژن پر اس طرح کی بھی بحث دیکھنے کو ملتی ہے کہ ممبئی بم دھماکے کے مجرم یعقوب ممین کی سزائے موت کو اگر عمر قید میں بدلنے کی مانگ ہو سکتی ہے تو مالیگاؤں اور سمجھوتہ اکپریس میں بم دھماکوں کے ملزم سوامی اسیم آنند کو ضمانت پر کیوں نہیں رہا کیا جا سکتا۔ دہشت گردی اور انسانی المیوں کی تشریح بھی باہمی مذہبی نفرت کا شکار نظر آتی ہے۔

ان دنوں تاريخ کے کرداروں پر بھی بحث ہو رہی ہے۔ پرانے بتوں کو توڑ کر ماضی کے کھنڈ روں اور ملبوں میں نئی نسل کے لیے مستقبل کے ہیرو تلاش کیے جا رہے ہیں۔ قوم پرست مورخ اور دانشور نئے بت تراشنے میں مصروف ہیں۔

جب سے مرکز میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے ملک میں مذہبی قوم پرستی ہر جگہ نظر آنے لگی ہے۔

بی جے پی خود بھی ایک ہندو قوم پرست جماعت ہے لیکن اس بار نریندر مودی کی قیادت میں یہ جماعت ترقی کے ایجنڈے پر اقتدار میں آئی ہے۔

وزیر اعظم مودی کی حکومت پوری طرح اپنے اعلان شدہ ایجنڈے پر قائم نظر آتی ہے۔ ابھی تک مودی حکومت نے مجموعی طور پر ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے اس کی ترقی کی پالیسی سے کسی انحراف کا پتہ چلتا ہو۔

یہ ضرور ہے کہ حالیہ دنوں میں تعلیمی اور ثقافتی اداروں میں نظریاتی دخل کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں۔ ہندو انتہا پسندی سے نمٹنے کے سوال پر بھی گہرے سوالات اٹھے ہیں۔ اس بدلتے ہوئے رحجان کے بارے میں ملک کے کئی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

Image caption فرقہ پرستی کے مختلف رنگ نظر آ رہے ہیں

وزیر اعظم مودی نے ان سوالوں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

پچھلے برس جب انھوں نے لال قلع کی فصیل سے بھارت کی عوام سے پہلی بار خطاب کیا تھا تو انھوں نے ایک ایسے بھارت کےخواب کا ذکر کیا تھا جس میں ہر کوئی ایک باعزت اور پر سکون زندگی گزار سکے۔

آزادی کے 68 برس بعد بھی ملک کی 70 فی صد آبادی محض زندہ رہنے کے لیے جد و جہد کر رہی ہے۔ 70 کروڑ سے زیادہ لو گ ناکافی سہولیات اور غیر انسانی حالات میں دیہی علاقوں میں صدیوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑتے آئے ہیں۔

مذہبی قوم پرستی اور نفرتوں کی یلغار سے ملکوں کی تقدیریں نہیں بد لتیں۔ بھارت کو مذہبی نفرت اور مذہبی قوم پرستی کی نہیں ایک ا یسی سیاسی قیادت کی ضرورت ہے جو الزام تراشیوں کے بجائے یہ جاننے کی کوشش کرے کہ ملک کی اکثریت صدیوں سے غربت و افلاس سے کیوں نہیں نکل سکی ہے۔

اسی بارے میں