ایک بجرنگی بھائی جان کی ضرورت ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بار پھر مذاکرات کے امکانات روشن ہو رہے ہیں

اب لگتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے رشتوں کو نئی جہت دینے کے لیے دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر جلد ہی ملاقات کریں گے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو خطے سے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے پر اتفاق ہو گا، اس کے بعد سب ٹھیک ہو جائے گا۔

لیکن اس سے پہلے کچھ بات گورداسپور کی ہوگی اور کچھ جموں کی، جہاں حال ہی میں شدت پسندوں نے حملے کیے ہیں، اور کچھ سمجھوتہ ایکسپریس اور ممبئی پر سنہ 2008 کے حملوں کی جن کے اصل ملزمان سوامی اسیم آنند اور ذکی الرحمان لکھوی کو ضمانت مل چکی ہے۔

ہندوستان گورداسپور اور جموں کے حملوں کے لیے جواب مانگے گا، اس کا الزام ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے، پاکستان کا شاید جواب ہو گا کہ ’بھائی، ہمیں کیا پتا یہ کون لوگ تھے اور کہاں سے آئے تھے، اتنی بڑی دنیا ہے، اور اگر وہ آئے بھی تھے تو آپ نے کیوں نہیں روکا، سرحد پر آپ نے خاردار تار لگا رکھی ہے، وہ کس کام کے لیے ہے؟‘

اور پھر ذکر ذکی الرحمان لکھوی کا ہوگا اور اس مرتبہ پاکستان کے لیے اس سوال سے بھی نمٹنا ذرا آسان ہو گا کیونکہ سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ سنہ 2007 میں ہوا تھا، ممبئی پر حملوں سے ایک سال پہلے۔

اس لیے ہندوستان سے بھی یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس کے ملزمان کو سزا دینے میں اتنی دیر کیوں لگ رہی ہے؟

کم و بیش تمام سوال سب کو معلوم ہیں، تھوڑا ادھر یا ادھر، جواب بھی سب کو معلوم ہی ہیں، اور شاید انجام بھی۔ اگر یہ ملاقات حسب پروگرام ہوئی تو کچھ ایسے ماحول میں ہوگی کہ ’سیلفی‘ لینے کی نوبت آنا مشکل ہی ہے۔

دونوں ملکوں میں بہت سے لوگ امن تو چاہتے ہیں، انھیں اپنی منزل بھی معلوم ہے، لیکن سلمان خان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ کی معصوم گمشدہ گونگی بچی کی طرح یہ نہیں معلوم کہ وہاں پہنچنا کیسے ہے۔

باہمی رشتوں کو نئی جہت دینے کے لیے ایک بجرنگی بھائی جان کی ضرورت ہے!

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں بلٹ ٹرین کا خواب پورا ہونے سے قبل پٹریوں کو بہتر بنانے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آئیں گے

سست رفتار لیکن تیز آدھی بلٹ ٹرین

نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد جو بڑے اعلانات کیے تھے ان میں ایک یہ تھا کہ ملک میں بلٹ ٹرین چلائی جائے گی۔ اوسط رفتار چار سو کلومیٹر فی گھنٹہ۔ بس بیٹھے کہ منزل آگئی۔ لیکن اس خواب کو شرمندۂ تعبیر ہونے میں کافی وقت لگ سکتا ہے، بلٹ ٹرین چلانے کے لیے پٹریوں کا نیا جال بچھانا ہوگا جس کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہوگی۔

جب تک بلٹ ٹرین آئیں، موجودہ ٹرینوں کی رفتار بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور معلوم نہیں کیوں انھیں ’سیمی بلٹ ٹرین‘ کہا جا رہا ہے۔

یہ ریل گاڑیاں نہ بہت تیز چلیں گی نہ بہت آہستہ۔ پہلی ٹرین دہلی اور آگرہ کے درمیان چلنے کے لیے اب تقریباً تیار ہے۔ یہ ٹرین 190 کلومیٹر کا سفر 105 منٹ میں طے کرے گی۔

یعنی یہ ریل گاڑیاں گولی کی رفتار سے تو چلیں گی لیکن سلو موشن میں!

Image caption تاج محل دنیا میں سب سے زیادہ تصاویر کھینچنے کی جگہوں میں سے ایک ہے

تاج محل کا ٹوئٹر ہینڈل

تاج محل کا اب اپنا الگ ٹوئٹر ہینڈل ہے TajMahal@۔ یہاں آپ اب تاج محل سے وابستہ اپنی حسین یادیں دوسروں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔

14 سال پہلے جولائی 2001 میں جنرل مشرف ایک سربراہی اجلاس کے لیے آگرہ آئے تھے جہاں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ان کی لمبی بات چیت ہوئی تھی۔

توقع یہ تھی کہ دو طاقتور رہنما جب آمنے سامنے بیٹھیں گے تو باہمی رشتوں کی سست رفتار گاڑی آخرکار پٹری پر آ جائے گی۔ لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اس وقت ایل کے اڈوانی وزیر داخلہ تھے اور بہت سے لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے سخت موقف کی وجہ سے زیادہ پیش رفت نہیں ہوسکی تھی۔

اگر ایل کے اڈوانی اور جنرل مشرف چاہیں تو پرانے گلے شکوے دور کرنے کے لیے لافانی محبت کی اس یادگار کا ٹوئٹر ہینڈل استعمال کر سکتے ہیں۔

ہینڈل لانچ ہوتے ہیں کافی مقبول ہو گیا ہے۔ کچھ لوگ تعریف کر رہے ہیں اور کچھ طنز، لیکن ایک شخص نے مشورہ دیا ہے کہ تاج محل کو ٹوئٹر پر نہیں فیس بک پر آنا چاہیے تھا تاکہ لوگ اس کی وال (دیوار) پر لکھ پاتے!

اسی بارے میں