گجرات: مودی پر تنقید، بھارتی پولیس افسر برخاست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کی ریاست گجرات کی حکومت نے بھارتی پولیس کے ایک سینئیر پولیس افسر سنجیو بھٹ کو سنہ 2002 میں گجرات کے فسادات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے کردار پر تنقید کی وجہ سے برخاست کر دیا ہے۔

سنجیو بھٹ کو سنہ 2011 میں معطل کیا گیا تھا اور انھیں ضمانت سے پہلے کچھ عرصے کے لیے جیل بھیج دیا گیا تھا۔

سنجیو بھٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ نریندر مودی نے سنہ 2002 میں جب وہ گجرات کے وزیرِ اعلیٰ تھے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کی اجازت ہونی چاہیے جس کی مودی تردید کرتے ہیں۔

بھارت کی ریاست گجرات کے حکام سنجیو بھٹ پر مودی کو جھوٹے الزام میں پھنسانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ گجرات میں یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ہندو یاتریوں کی ایک ٹرین میں آگ لگنے سے 60 ہندو ہلاک ہو گئے تھے۔ ان فسادات کے نتیجے میں 1,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تر ملسمان تھے۔

اس ٹرین میں لگنے والی آگ کی وجہ کبھی بھی معلوم نہیں کی گئی یا منظر عام پر نہیں آ سکی ۔ تاہم ہندو گروہوں کا موقف ہے کہ یہ آگ مسلمان مظاہرین نے لگائی تھی لیکن اس سے پہلے کی جانے والی ایک انکوائری کے مطابق ٹرین میں لگنے والی آگ محض ایک حادثہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

واضح رہے کہ سنجیو بھٹ فسادات کے وقت گجرات انٹیلیجنس بیورو میں ایک سینئیر پولیس افسر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

بھارتی پولیس افسر سنجیو بھٹ نے بدھ کی رات ٹوئٹر پر اپنی برخاستگی کی خبر دی۔

انھوں نے فیس بک پر حکام کی جانب اپنی برخاستگی کی وجوہات کو بیان کیا۔

انھوں نے لکھا کہ حکومتِ وقت نے مجھے نوکری سے برخاست کرنے کا فیصلہ ایک جعلی انکوائری کے ذریعے کیا جس میں مجھ پر جھوٹے الزاما عائد کیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں سیاسی عزائم کارفرما تھے۔

اسی بارے میں