’مذاکرات کے لیے کشمیریوں سے نہ ملنے کی یقین دہانی لازمی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اوفا میں طے پایا تھا کہ ایک بات چیت دہشت گردی کے موضوع اور ایک سرحد پر کشیدگی کے حوالے سے کی جائے: سشما سوراج

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے دہلی میں حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے اور بات چیت کا دائرہ کار دہشت گردی تک ہی محدود رکھنے کی یقین دہانی کے بعد ہی قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا کوئی امکان ہی نہیں اور پاکستان کے پاس یہ یقین دہانیاں کرانے کے لیے سنیچر کی رات تک کا وقت ہے۔

دارالحکومت نئی دہلی میں سنیچر کو صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ نہیں ہو سکتے لیکن دہشت گردی پر مذاکرات کی ضرورت ہے۔

کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہیں: سرتاج عزیز

حرّیت والے ڈھیلے کیوں پڑ گئے؟

انھوں نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے علاوہ بات چیت کرنے کی صورت میں بھارتی حکومت کے ردعمل کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ’ تو پھر بات چیت نہیں ہو گی۔‘

وزیرِ خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ’ہم بار بار کہتے ہیں کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی اور بامعنی بات چیت دہشت گردی کے ماحول میں ممکن نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی پر بات چیت کے بعد ہی پاکستان کے ساتھ دوسرے مسائل پر بحث ہوگی۔

’پاکستان کی جانب سے دیے گئے تمام نکات پر بات چیت ہوگی لیکن کب ہوگی، جب دہشت گردی بند ہوگی اور دہشت گردی ختم ہو اسی لیے یہ ملاقات طے کی گئی تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات سے بالکل بھاگنا نہیں چاہتا لیکن وہ ماحول بنانا چاہتا ہے جس میں بات چیت ہوسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اوفا میں طے ہوا تھا کہ بات چیت پہلے دہشت گردی کے معاملے پر ہو گی اور باقی مسائل پر بات بعد میں کر لی جائے گی۔

’دونوں وزرائے اعظم کے درمیان طے پایا تھا کہ ایک بات چیت دہشت گردی کے موضوع اور ایک سرحد پر کشیدگی کے حوالے سے کی جائے۔‘

بھارتی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی ہر بات چیت کو مذاکرات نہیں کہا جا سکتا اور اوفا میں جب نواز شریف اور نریندر مودی ملے تو مذاکرات کی بحالی نہیں ہوئی تھی۔

بھارتی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی بات چیت منسوخ کرنے کے لیے بھارتی حکومت کو مسلسل دباؤ کا سامنا رہا۔

’جب بھی سیز فائر کی خلاف ورزی ہوتی ہم پر دباؤ ہوتا تھا کہ سلامتی امور کے مشیروں کے مذاکرات ختم کر دو۔ 27 جولائی کو گرداس پور کا حملہ ہوا جس کے بعد پھر مذاکرات ختم کرنے کا دباؤ تھا لیکن ہم نے کہا کہ اس صوتحال کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی پر بات چیت کی جائے۔‘

’تیسرے کو فریق مت شامل کیجیے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مذاکرات سے پہلے کبھی بھی بھارت نے حریت رہنماؤں کی پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات نہیں ہونے دی‘

سشما سوراج نے ملاقات میں کشمیر کے مسئلے پر بات چیت کے امکان کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔

کشمیری حریت رہنماؤں سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شملہ معاہدے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان جب مذاکرات ہوں گے تو صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوں گے اور اس میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہوگا۔

’آپ بات چیت کا دائرہ دہشت گردی سے آگے مت بڑھائیے اور آپ آنا چاہتے ہیں تو یہ دونوں باتیں آپ سے کہتے ہیں کہ تیسرے کو فریق مت شامل کیجیے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے اور ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات سے پہلے کبھی بھی بھارت نے حریت رہنماؤں کی پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات نہیں ہونے دی۔

’مذاکرات سے پہلے کا ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ انھیں سٹیک ہولڈر مانتے ہیں۔‘

سشما کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر ملنے اور مذاکرات سے پہلے ملنے میں بہت فرق ہے اور اس بار تو پاکستان نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا ہے کہ حریت رہنما کشمیر کے نمائندے ہیں اور یہ تیسرا فریق بنانے والی بات ہے۔‘

خیال رہے کہ اتوار کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اور ان کے بھارتی ہم منصب کے درمیان بات چیت شروع ہونی ہے۔

سنیچر کی صبح پاکستانی وزیرِ اعظم کے مشیر سلامتی امور سرتاج عزیز نے اسلام آباد میں کہا ہے کہ دہلی میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ دینے میں را کے ملوث ہونے کے بارے میں ثبوت فراہم کیے جائیں گے۔

لیکن اس ملاقات سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر دیے گئے بیانات نے بات چیت کے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔

اس مسئلے کا آغاز کشمیری رہنماؤں کو پاکستانی رہنما سرتاج عزیز سے ملاقات کی دعوت دیے جانے پر ہوا تھا اور کشیدہ صورتحال میں بات چیت منسوخ ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

اسی بارے میں