بھارتی گجرات میں پٹیل برادری کا مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ ANKUR JAIN
Image caption ’ہم کسی بھی برادری کے خلاف نہیں ہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں‘

بھارت کے شہر گجرات کی پٹیل کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں لوگوں نے احمد آباد میں مظاہرہ کیا جس میں ان کا موقف تھا کہ انھیں بہتر تعلیم اور ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں۔

اس مظاہرے کی سربراہی 21 سالہ متنازع کمیونٹی لیڈر ہرڈک پٹیل نے کی۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کی 20 فیصد آبادی پٹیل کمیونٹی پر مشتمل ہے، اور ریاست میں ان کا بہت زیادہ معاشی اثر و رسوخ ہے۔

بھارت میں ہیروں کی تراش خراش اور ان کی تجارت پر پٹیل برادری چھائی ہوئی ہے اور ان کا شمار گجرات کے کامیاب ترین تاجروں اور کسانوں میں ہوتا ہے۔

پٹیل برادری کے زیادہ تر لوگ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کارخانوں اور کاروبار پر انحصار کرتے ہیں تاہم ان میں کمی واقع ہونے کے باعث اب ان کے لیے ملازمت کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔

برادری کے سربراہ ہرڈک پٹیل کی رہنمائی میں اب پٹیل کمیونٹی مطالبہ ہے کہ اس بارے میں فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں اور انھیں او بی سی یا ترقی پذیر برادریوں میں شامل کیا جائے تاکہ انھیں حکومتی ملازمتوں اور تعلمیی اداروں میں سیٹوں پر کوٹا دیا جا سکے۔

احمد آباد سے بی بی سی کی گیتا پانڈے کہتی ہیں کہ اس مظاہرے میں کم از کم تین لاکھ لوگ شریک ہوئے۔ اس موقعے پر سخت سکیورٹی کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ مظاہرے کے منتظمین نے 2500 رضاکاروں کی خدمات حاصل کی ہیں جو مظاہرے میں شریک لوگوں کی دیکھ بھال اور امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کر رہے ہیں۔

ہرڈک پٹیل نے مظاہرین سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی برادری کے خلاف نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

گجرات کی وزیر اعلیٰ آنندبین پٹیل نے مظاہرین کے مطالبات رد کرتے ہوئے برادری کی سربراہان سے حکومتی سطح پر بات چیت کرنے کی پیشکش کی ہے۔

لیکن ہرڈک پٹیل نے مقامی چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی اس اپیل کا کوئی مقصد نہیں۔ یہ صرف افراتفری پھیلانے کا ذریعہ ہے۔ اگر وہ اس معاملے کے بارے میں سنجیدہ ہوتیں تو وہ کسی ٹھوس اقدام کا اعلان کرتیں۔‘

اسی بارے میں